شہر میں مدرسہ عالیہ کے بشمول 400 عمارتیں مخدوش

   

موسم باراں کی آمد سے قبل جی ایچ ایم سی سے غیرمحفوظ عمارتوں کی نشاندہی
حیدرآباد۔20 ۔جون(سیاست نیوز) موسم باراں کی آمد سے قبل مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے جن عمارتوں کی مخدوش عمارتوں کے طور پر نشاندہی کی ہے ان 400 عمارتوں میں تاریخی مدرسۂ عالیہ کی عمارت بھی شامل ہے۔بتایاجاتاہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے تیار کردہ فہرست میں اس مدرسہ کا نام شامل ہونے کے بعد کہا جارہا ہے کہ مدرسۂ عالیہ کی عمارت کو ’’غیر محفوظ ‘‘ عمارت کی فہرست میں شامل کیاجاچکا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کے سلسلہ میں ریاستی انچارج وزیر شہر کی ہدایت کے بعد انہیں پیش کی گئی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں 377 مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان میں بیشتر عمارتوں کو مکمل طور پر غیر محفوظ قرار دیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجودکئی عمارتیں ایسی ہیں جن میں مکین آباد ہیں ۔ مانسون کی آمد سے قبل کی جانے والی تیاریوں میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی اور ان کے تخلیہ کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے متعلق بلدی عہدیداروں کاکہناہے کہ ان عمارتوں کو جو مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں ان کا نہ صرف تخلیہ کروایا جائے گا بلکہ ان کے انہدام کی کاروائیوں کو بھی تیزی سے مکمل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور اس کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ’حیڈرا‘ کی مدد حاصل کرے گی تاکہ بارش کے دوران کسی بھی طرح کا کوئی ناگہانی واقعہ نہ پیش آئے۔ شہر حیدرآباد میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی اور ان کے انہدام کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں کا کہناہے کہ شہر کو محفوظ بنانے اور مانسون کے دوران مخدوش عمارتوں کے گرنے سے پیش آنے والے حادثات سے پاک بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں مانسون کے دوران سیلر کی کھدوائی پر بھی مکمل پابندی عائدکرنا بھی شامل ہے۔3/a/b