شہر میں موجود بنگالی برادری میں اپنی مدد آپ کے نظریہ کا فروغ

   

رکن اسمبلی کی جانب سے مدد سے انکار پر مزید ذلت کا شکار نہ ہونے کا عزم کے ساتھ ایک دوسرے کی مدد
حیدرآباد۔10اپریل(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میںبنگالی برادری متحدہ طور پر اپنی مدد آپ کا نظریہ اختیار کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کررہی ہے اور لاک ڈاؤن کے حالات میں ایک دوسرے کے لئے اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے علاوہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی جو صورتحال پیدا ہوئی اور لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑاتو سب نے اپنے نمائندوں کا رخ کیا یا پھر مقامی ارکان اسمبلی سے رابطہ کی کوشش کی لیکن بنگال سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے جب ایسا کرنے کی کوشش کی گئی اور اس میں انہیں یہ جواب دیا کہ ہم بنگالیوں کی مدد نہیں کریں گے تو شہر حیدرآباد میں موجود بنگالیوں نے فوری طور پر اپنی اسوسیشن کے ذریعہ اپنے مقامی باشندوں کی مدد کے لئے اقدامات کا آغاز کردیا اور شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں رہنے والے بنگالیوں کی مدد کے لئے سرگرم ہوگئے اور اپنے عظیم اتحاد کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں کیونکہ اس ایک فون کال نے بنگالی سماج کے سونچنے کا طریقہ تبدیل کردیا ہے اور اب بنگالی سماج کے مزدور طبقہ کو کسی کی ضرورت باقی نہ رہے اس اعتبار سے اس کی مدد کی جا رہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ برے وقت میں آزمائے جاچکے ہیں اور اب مزید ذلیل نہیں ہونا ہے اسی لئے اب کسی کی مدد کی ضرورت بنگالی سماج کو نہیں ہے کیونکہ بنگالی سماج میں مزدور ہی نہیں ہیں بلکہ ان میں تاجرین اور سنار بھی موجود ہیں اور سب ایک دوسرے کی مدد کے ذریعہ سماج کو کسی بھی قسم کی تکالیف سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ بنگالی سماج کی جانب سے نہ صرف غذاء کے انتظامات کئے جا رہے ہیں بلکہ دیگر ضروریات جیسے جن گھرانوں میں ادویات اور گیاس یا دودھ کی ضرورت ہو تو وہ بھی پہنچانے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں ۔ بنگالی سماج کی جانب سے اپنی ریاست کے شہریوں کے لئے کی جانے والی ان رضاکارانہ خدمات کے سلسلہ میں بتایا جاتا ہے کہ ایک رکن اسمبلی کی جانب سے بنگالیوں کی مدد نہ کرنے سے متعلق کہے جانے کے فوری بعد بنگالیوں نے لاک ڈاؤن سے نمٹنے کے اور بنگالی مزدوروں کی مدد کے لئے واٹس اپ گروپ تیار کرتے ہوئے ان حالات میں خدمات کی انجام دہی اور سماج کے مزدور طبقہ کی مدد کا فیصلہ کیا اور بنگالی سماج سے تعلق رکھنے والوں کی مکمل تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے اپنے ذریعہ اپنی مدد کے آپ نظریہ کے تحت خدمات کا آغاز کردیا گیا ہے اور اب بنگالیوں میں نہ صرف غذاء کی فراہمی بلکہ راشن کی تقسیم کے علاوہ دیگر سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔