حیدرآباد ۔ 6 ۔ جولائی : ( ایجنسیز ) : شہر میں کوویڈ 19 کے مضر اثرات برقرار ہیں جب کہ شہریان حیدرآباد اب مچھروں کی کثرت کے باعث ہونے والے مسائل سے دوچار ہیں اور متعدی ، وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا خطرہ لاحق ہے ۔ اس کے علاوہ شہری اس کے تدارک کے لیے جی ایچ ایم سی کی جانب سے مناسب اقدامات اور کارروائی نہ کئے جانے پر برہم ہیں ۔ مانسون اور ناقص صحت و صفائی کی وجہ سے عام طور پر مچھروں کی کثرت ہوتی ہے اور کئی متعددی امراض بشمول ڈینگو اور ملیریا میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس دوران آن لائن درج کروائی گئی بڑی تعداد میں شکایتوں کو دور نہیں کیا گیا اور مچھروں کے تدارک کے لیے ٹوئیٹر پر ایک مہم بھی شروع کی گئی ۔ مانسون کی مشکلات جیسے خراب سڑکیں ، کچہرے کے انبار شہر میں عام مناظر ہیں ۔ رپورٹس کے مطابق گذشتہ سال کے مقابل اس سال متعدی اور وبائی امراض کم ہیں ۔ تاہم عہدیداروں نے حکومت سے کہا ہے کہ تمام سرکاری دواخانوں میں ڈینگو ٹسٹس کو لازمی بنایا جائے ۔ محمد احمد نائب صدر ٹی ڈی پی گریٹر حیدرآباد میناریٹی سیل نے کہا کہ ان امراض کے خطرہ اور جوکھم کا سدباب کرنے کے لیے صفائی کی ایک مہم بھی نہیں چلائی گئی ۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ سڑکوں پر کچہرے کے انبار اور گندے پانی کے بہاؤ پر خاموشی اختیار کرلی گئی ہے اور اس کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ اس کے علاوہ شہر کے کئی حصوں میں تقریبا ایک ہفتہ تک سڑکوں پر جاروب کشی نہیں ہوتی ہے ۔ کاروان حلقہ کے مکانات کئی ذخائر آب جیسے شاہ حاتم تالاب ، لنگر حوض جھیل ، حکیم پیٹ کنٹہ جھیل اور جمالی کنٹہ جو ہمیشہ کیلئے گندے پانی سے بھرے رہتے ہیں مچھروں کی افزائش کا مقام بن گئے ہیں ۔ اینٹی لاروا کیمیکل کا چھڑکاؤ کرنا مچھروں کی افزائش کا تدارک کرنے کیلئے موزوں طریقہ نہیں ہے ۔ یہ بات جانکی نگر ، ٹولی چوکی کے ساکن عثمان بن محمد نے کہی ۔ کئی لوگوں نے ٹوئیٹر پر اس مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ٹیاگ کیا اور ان کی جانب سے درج کروائی گئی شکایتوں پر کارروائی کرنے کیلئے کہا ۔ مچھروں کے باعث ہونے والے مسائل اور مشکلات کو سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر اٹھاتے ہوئے شہر کے کئی لوگوں نے کہا کہ ’ مچھر کوائلس سے بھی نہیں مر رہے ہیں اور وہ مچھروں کے بیاٹ سے انہیں مارنے کی جدوجہد کررہے ہیں ‘ ۔۔