ٹریفک بحالی میں عام شہریوں کی پہل ، پولیس اہلکاروں کا گاڑی رانوں کی تصویر کشی تک اکتفا
حیدرآباد۔25اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر میں ٹریفک جام کے وقت پولیس کہاں ہوتی ہے اور کیا کرتی ہے اور کیوں ٹریفک نظام کو بحال کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے جبکہ عام طور پر شہر میں موجود ٹریفک پولیس عملہ کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی تصویر کشی کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے لیکن جب شہر میں ٹریفک جام ہوجاتی ہے تو اس وقت کہیں کوئی پولیس اہلکار نظر نہیں آتا بلکہ بعض مقامات پر شہریو ںکو ٹریفک بحال کرنے کی کوشش کرتے دیکھا جاتا ہے۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی کئی اہم سڑکوں پر مصروف ترین اوقات میں ٹریفک جام روز کا معمول ہے لیکن ان اوقات کار میں سڑک پر کوئی ٹریفک اہلکار موجود نہیں ہوتا جبکہ اسی سڑک پر جب ٹریفک نہیں ہوتی اس وقت ٹریفک پولیس اہلکارو ںکو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی تصویر کشی کرتے اور دستاویزات کی جانچ کرتے دیکھا جاتا ہے ۔شہریو ںمیں اس بات کا احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ شہر حیدرآباد میں محکمہ ٹریفک پولیس کا کام صرف چالان کرنا رہ گیا ہے جبکہ ٹریفک جام کی صورت میں ان کی جانب سے فوری ٹریفک نظام کو بحال کرنے کے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے بلکہ ٹریفک جام کی اطلاع کے ساتھ ہی ٹریفک پولیس عملہ سڑکوں سے غائب ہوجاتا ہے ۔نوجوان کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا کہناہے کہ ٹریفک پولیس اہم شخصیتوں کے لئے سڑک سے ٹریفک ہٹانے کے علاوہ چالان کرنے کیلئے رہ گئی ہے جبکہ ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے لیکن اس ذمہ داری کو بہت کم عہدیدار اور ملازمین انجام دے رہے ہیں جبکہ بیشتر پولیس عہدیدار او ر اہلکار چالانات اور دستاویزات کی تنقیح اور گاڑیوں کی تلاشی کے علاوہ اہم سڑکوں سے اہم شخصیتوں کے گذر کے وقت ٹریفک نظام کو درست کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ شہریوں کو بھی بہتر ٹریفک نظام اور ٹریفک سے پاک سڑکوں پر گھومنے کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا اہم شخصیتوں کو فراہم کیا جاتا ہے لیکن شائد شہریوں کو اپنے اس حق کے متعلق علم نہیں ہے اسی لئے وہ خاموشی کے ساتھ نہ صرف ٹریفک جام کو برداشت کرلیتے ہیں بلکہ ٹریفک پولیس کی جانب سے کی جانے والی من مانی کو بھی وردی کے خوف سے برداشت کرلیتے ہیں ۔