شہر میں پری ۔ پرائمری ، پرائمری داخلوں کیلئے بڑی تیزی آگئی

   

حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : شہر میں اسکولس میں پری ۔ پرائمری اور پرائمری داخلوں کے لیے اولیائے طلباء کی جانب سے بڑی دوڑ دھوپ کی جارہی ہے اور اس میں کافی تیزی پیدا ہوگئی ہے ۔ کئی ٹاپ اسکولس کو ان سیکشنس میں داخلوں کے لیے بہت بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہورہی ہیں ۔ سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن ( سی بی ایس ای ) اور کونسل فار دی انڈین اسکول سرٹیفیکٹ ایگزامنیشنس

(CICSE)

کے کئی اسکولس نے حال میں تمام کلاسیس کے لیے داخلوں کا عمل شروع کیا ہے ۔ گذشتہ سال کئی اسکولوں میں پری ۔ پرائمری اور پرائمری کلاسیس میں داخلے کورونا وبا کے باعث کم ہوئے تھے اور اس میں گراوٹ آئی تھی ۔ لیکن اس سال کئی اولیائے طلباء ، جنہوں نے وبا کے باعث ان کے بچوں کے لیے ایک سال چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا تھا اب داخلوں کے لیے امڈ پڑ رہے ہیں ۔ ایک شخص ودیا نائر نے کہا کہ ’ مجھے گذشتہ سال میرے بیٹے کو نرسری میں داخلہ دلوانا تھا تاہم کورونا وبا کے باعث میں نے اسے اسکول میں داخلہ نہ دلوانے کا فیصلہ کیا ۔ اب حالات بتدریج معمول پر آرہے ہیں ۔ اس لیے میں میرے بیٹے کو جون سے شروع ہونے والے آئندہ تعلیمی سال میں داخلہ دلوانا چاہتا ہوں ‘ ۔ اسکولس نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اس سال اولیائے طلباء سے ان کے بچوں کے داخلوں کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔ حیدرآباد پبلک اسکول ، رامنتا پور کے پرنسپل نرسمہا ریڈی نے کہا کہ ’ گذشتہ سال کے مقابل اس سال داخلوں کے لیے بالخصوص پرائمری کلاسیس میں داخلوں کے لیے درخواستوں کی تعداد دوگنا ہوگئی ہے ۔ حال میں ہم نے پری ۔ پرائمری سیکشن کے لیے لاٹری منعقد کی اور اس کے لیے درخواستیں مسلسل وصول ہورہی ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کئی اولیائے طلباء جنہوں نے گذشتہ سال شہر چھوڑ دیا تھا ۔ اب واپس آگئے ہیں اور ان کے بچوں کے لیے داخلے کروانے پر توجہ دے رہے ہیں ‘ ۔ اس سال داخلوں کے لیے آن لائن اور روایتی دونوں آپشنس داخلوں کے لیے کھلے ہیں ۔ پی اوبل ریڈی پبلک اسکول کی پرنسپل لتا شنکر نے کہا کہ ہم نے 6 فروری کو آن لائن داخلوں کا عمل شروع کیا ہے اور 24 گھنٹوں سے کم وقت میں ہم کو 700 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔ اس سال ہم اولیائے طلباء سے اچھے ریسپانس کی توقع کررہے ہیں ‘ ۔ بجٹ اسکولس بھی اس سال داخلوں میں بہتری کی توقع کررہے ہیں ۔ گذشتہ سال کئی اولیائے طلباء نے کورونا وبا کے باعث ان کے بچوں کو گورنمنٹ اسکولس میں شریک کروایا تھا ۔۔