شہر میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش

   

سماجی پھیلاؤ کی تاحال توثیق نہیں۔ احتیاطی تدابیر پر موثر عمل آوری ضروری
حیدرآباد۔3جون(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے محکمہ صحت کے مسائل میں اضافہ کرنا شروع کردیا ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو غیر کارکرد قرار دیا جانے لگا ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں روزانہ جس رفتار سے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر جی سرینواس راؤ ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلت نے کہا ہے کہ کسی مخصوص علاقہ سے کورونا کے مریضوں کی توثیق نہیں ہورہی ہے بلکہ شہر کے مختلف علاقوں میں مریض پائے جانے لگے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک بھی تلنگانہ میں وباء کے سماجی پھیلاؤ کی سرکاری سطح پر توثیق نہیں کی گئی ہے لیکن صورتحال میں پیدا ہونے والی ابتری کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہناہے کہ اب حالات حکومت کے قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود بری طرح سے متاثر ہونے لگے ہیں کیونکہ جی ایچ ایم سی حدود میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے بچاؤ کیلئے اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر پر مؤثر عمل آوری نہیں کی جا رہی ہے ۔

3جون کو ریاست میں جملہ 127 مریضوں کی توثیق ہوئی ہے جس میں 108 کا تعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود سے ہے۔ اسی طرح گذشتہ یوم 99 کورونا وائرس کے مریض ریاست میں پائے گئے تھے جن میں 70کا تعلق جی ایچ ایم سی حدود سے تھا۔یکم جون کو حکومت کی جانب سے جاری کردہ بلیٹن کے مطابق ریاست میں 94 مریضوں کی نشاندہی کی گئی تھی جس میں 79 مریضوں کا تعلق شہر حیدرآباد سے رہا اس اعتبار سے ماہ جون کے آغاز سے اب تک ریاست تلنگانہ میں جملہ 320 کورونا وائرس کے مصدقہ مریض پائے گئے ہیں جن میں 257 کورونا وائرس کے مریضوں کا تعلق شہر حیدرآباد سے ہے۔ ڈاکٹر جی سرینواس نے کہا کہ ریاستی حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے عوام کو باشعور بنانے اور احتیاطی اقدامات کو لازمی کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے

اور شہر حیدرآباد میں خصوصی مہم چلانے کی ضرورت ہے کیونکہ شہر حیدرآباد میں کسی ایک مخصوص علاقہ یا محلہ سے مریضوں کی تعداد زیادہ ریکارڈ نہیں کی جار ہی ہے بلکہ شہر کے مختلف علاقوں سے کورونا وائرس کے مصدقہ مریض علاج کے لئے دواخانہ میں شریک ہونے لگے ہیں۔