آئندہ دو یوم میںمزید بارش کی پیش قیاسی ۔ مصروف سڑکوں پر بھی پانی جمع ہوگیا
حیدرآباد۔6۔اکٹوبر(سیاست نیوز) دونوں شہروں میں آئندہ دو یوم میں موسلادھار بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے اور محکمہ موسمیات کے انتباہ میں کہا گیا کہ آئندہ دو یوم کے دوران شہر کے علاوہ مضافاتی علاقوں میں موسلادھار بارش اور گھن گرج کے ساتھ تیز ہواؤں کا بھی امکان ہے۔ گذشتہ شب حیدرآباد میں شام سے بارش کا سلسلہ رات بھر جاری رہا جس کی وجہ سے راجندر نگر ‘ عطاپور کے علاوہ دیگر سڑکوں پر راہگیروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چہارشنبہ کی شب بارش کے سبب راجندر نگر اور عطاپورپر زائد از3فیٹ پانی جمع ہونے سے گاڑیوں کو گذرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔ماہرین کی پیش قیاسی کے مطابق آئندہ دو یوم میںمزید بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ جمعرات کو صبح اولین ساعتوں سے دونوں شہروں اور بیشتر اضلاع میں بوندا باندی کا سلسلہ جاری ہے اور دو پہر کے بعد سے شہر کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی ۔ جن علاقوں میں شدید بارش ہوئی ان میں جوبلی ہلز ‘ مادھاپور‘ کوکٹ پلی‘ میاں پور‘ ایل بی نگر‘ راجندرنگر‘شیورام پلی‘ نامپلی‘ بشیر باغ‘ فلک نما‘ منڈی میر عالم ‘ یاقوت پورہ اور دیگر کئی علاقہ جات ہیں ۔ بارش کے سبب کئی گھنٹوں تک سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع رہا۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ان مقامات پر جہاں پانی جمع ہونے کی شکایات ملتی ہیں ان پر ایمرجنسی عملہ کو پہلے ہی متعین کرنے اقدامات کئے تھے لیکن اس کے باوجود کئی اہم سڑکوں پر بارش کا پانی جمع ہونے کے سبب عوام کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔دونوں شہروں میں گذشتہ دو یوم سے جاری ہلکی اور تیز بارش کے بعد شہر کی سڑکوں کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں شہر کے کئی علاقوں میں ٹریفک جام کی شکایات کے علاوہ حادثات کی شکایات ملنے لگی ہیں۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کے اعلیٰ عہدیدارو ںکو چاہئے کہ وہ فوری دونوں شہروں میں کم از کم مصروف سڑکوں کی مرمت کو یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کو حادثات سے محفوظ رکھا جاسکے ۔ محکمہ آبرسانی سے سیوریج کے ڈھکن کھولنے پر پابندی عائد کرکے مقدمات درج کرنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن شہریوں کو بارش کے پانی کے بہاؤ کیلئے یہ ڈھکن ہٹانے پڑ رہے ہیں جو راہگیروں کیلئے مشکلات یا حادثات کا سبب بننے کا خدشہ ہے۔ م