شہر کے پبلک ٹائلیٹس میں گندگی اور غلاظت،اطراف کچرے کا انبار

   

بدبو اور تعفن، مینٹننس کیلئے ایجنسیز آمادہ نہیں، جی ایچ ایم سی کا دعویٰ

حیدرآباد : شہر حیدرآباد میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کی جانب سے تعمیر کئے گئے 3,000 پبلک ٹائلیٹس بہت خراب حالت میں ہیں جس سے ان ٹائلیٹس کے مینٹیننس کیلئے کسی ایجنسی کو مامور کرنے میں عہدیداروں کی لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے۔ شہر کے مختلف مقامات پر 50 تا 60 ٹائلیٹس کی حالت کا جائزہ لیا گیا تو دیکھا گیا کہ وہ گندگی سے بھرے ہوئے ہیں اور ان سے بدبو آرہی ہے اور ان کے اطراف کچرے کے انبار بھی ہوگئے ہیں اور یہ شہر کے بدنما داغ کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔ کئی پبلک ٹائلیٹس میں ڈورس کا سرقہ کرلیا گیا ہے اور ان کے اندرونی حصوں میں جو نقصان ہوا ہے اس کی مرمت مشکل ہے۔ ان ٹائلیٹس کیلئے پانی کی سپلائی یا ڈرینج کنکشن بھی نہیں ہے حالانکہ جی ایچ ایم سی نے ٹائلیٹس زیرتعمیر ہیں، کے نوٹس بورڈس لگائے ہیں لیکن اس کی تعمیر بہت پہلے ہوچکی ہے اور ٹائلیٹس کو بعد میں شرپسند عناصر نے نقصان پہنچایا۔ چند دن قبل وزیربلدی نظم و نسق اور شہری ترقی کے ٹی راماراؤ نے پبلک ٹائلیٹس کو ان عناصر کے رحم پر چھوڑتے ہوئے حیدرآباد کے امیج کو داغدار بنانے پر بلدی عہدیداروں پر تنقید کی تھی۔ تاہم اس کے بعد بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ بعض ٹائلیٹس کے پاس دیکھا گیا کہ لوگ مقفل ٹائلیٹس کے اطراف پیشاب کررہے تھے۔ مہدی پٹنم کے ساکن سدھارتھ نے کہا کہ ’’لوگوں کو اب یہ کہنے سے گریز کرنا چاہئے کہ حیدرآباد ،رہنے کیلئے ایک بہترین شہر ہے۔ ایک کروڑ کی آبادی والے اس شہر میں چند سو صاف ٹائلیٹس بھی فراہم نہیں ہیں۔ گڈی ملکاپور کے ایک فروٹ مرچنٹ، لطیف خان نے کہا کہ ہماری کالونی میں دو ناکارہ پبلک ٹائلیٹس ہیں۔ وہ گندگی اور غلاظت سے بھر گئے ہیں اور ان
سے جو بدبو آرہی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ وجئے نگر کالونی میں پبلک ٹائلیٹس کے ڈورس کا بھی سرقہ کرلیا گیا ہے۔ اس کالونی کے ساکن وجئے کمار کے مطابق جی ایچ ایم سی کے عملہ کی جانب سے گذشتہ تین ہفتوں میں ان ٹائلیٹس کے اطراف جمع ہوئے کچرے کو اٹھایا نہیں گیا۔ مانصاحب ٹینک کے روی کمار نے دعویٰ کیا کہ جی ایچ ایم سی کی وجہ شہر کی بدنامی ہوئی ہے۔ ’’مہدی پٹنم ، پرانا پل اور کشن باغ میں ٹائلیٹس کے بارے میں کہا جاتا ہیکہ یہ ابھی زیرتعمیر ہیں لیکن صرف واٹر اور سیوریج کنکشن کی تکمیل کرنی ہے۔ کیا اس کیلئے چھ ماہ درکار ہوں گے؟۔ سنٹرل پبلک ہیلت اینڈ
انوائرنمنٹل انجینئرنگ آرگنائزیشن (CPHEEO) کے اصولوں کے مطابق سڑک کے ہر ایک کیلو میٹر اسٹریج کیلئے ایک پبلک ٹائلیٹ ہونا چاہئے لیکن حالانکہ حیدرآباد کو ملک کا ایک بہترین رہائشی شہر قرار دیا جاتا ہے پھر بھی پبلک ٹائلیٹس کی تعمیر کے معاملہ میں یہ پیچھے ہے۔ حیدرآباد میں زائد از 9,000 کیلو میٹرس کی سڑکیں ہیں۔ درحقیقت شہر میں 350 سے زائد پبلک ٹائلیٹس نہیں ہیں۔ یہ ٹائلیٹس ایک سال پہلے تعمیر کئے گئے تھے۔ اب اس کا مطلب ہیکہ جی ایچ ایم سی نے گذشتہ ایک سال میں مزید ٹائلیٹس تعمیر کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور جو ٹائلیٹس موجود ہیں وہ خراب حالت میں ہیں جس کی وجہ لوگ ان کے اندر جانے کے خیال سے تک گھبرا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شہر کے 350 ٹائلیٹس میں 230 سولابھ ؍ بی او ٹی، 97 پری ۔ فبریکیٹڈ ٹائلیٹس، چند Loo Cafes جو زیادہ تر ہائی ٹیک سٹی علاقہ میں ہیں اور 34 شی ٹائلیٹس ہیں۔ صرف سولابھ ٹائلیٹس ہی چالو حالت میں
ہیں۔ ٹائلیٹ دستیابی کے معاملہ میں میل۔ فمیل تناسب 1:1 ہونا چاہئے لیکن یہاں خواتین کیلئے بمشکل ہی کوئی ٹائلیٹس ہیں اگر ہیں بھی تو بہت خراب حالت میں ہیں۔ اکثر خواتین کو ان ٹائلیٹس کو استعمال کرنے میں مشکل ہوتی ہے کیونکہ ان کی حالت خراب رہتی ہے۔ خاطرخواہ پانی دستیاب نہیں رہتا، بدبو آتی ہے اور نگران مرد ہوتا ہے۔ جب اس سلسلہ میں عہدیداروں سے ربط کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مینٹننس ایجنسیز اس کام کیلئے آگے نہیں آرہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں ٹائلیٹس کی حالت خراب ہورہی ہے۔ یہ اس وجہ سے ہیکہ ایجنسیز کو بھروسہ نہیں ہیکہ انہیں جی ایچ ایم سی کی جانب سے بروقت رقم ادا کی جائے گی۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’اس کے علاوہ، کورونا وبا کے باعث ایجنسیز کو مقرر کرنے کے سلسلہ میں ہماری کاوشوں میں رکاوٹ ہوئی‘‘۔