شہریت ترمیمی قانون پر مقامی جماعت کی معنی خیز خاموشی

   

قیادت کے انجانے پن پر شہریوں کی برہمی و ناراضگی ، بی ٹیم کا لیبل درست ثابت
حیدرآباد /19 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) شہریت ترمیمی قانون شہریان حیدرآباد میں دوہری تکلیف کا سبب بنا ہوا ہے ۔ مسلم مفادات کے حق میں صدائے احتجاج بلند کرنے میں ہمیشہ آگے رہنے والے شہر حیدرآباد کی اس سنگین مسئلہ پر خاموشی معنی خیز ثابت ہو رہی ہے ۔ جو کئی شبہات اور الزامات کی تقویت کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ شہریان حیدرآباد ان دنوں بل کو قانونی شکل دئے جانے کے بعد قیادت کی خاموشی پر برہمی ظاہر کر رہے ہیں ۔ اور اب ایسے شہری بھی اظہار خیال کرنے لگے ہیں جو کسی موقع پر جماعت کے خلاف سننا تک پسند نہیں کرتے تھے ۔ اب ایسے شہری قیادت کی پالیسی سے اپنی ناراضگی اور بے زارگی کا اظہار کرنے لگے ہیں اور بی ٹیم کے لیبل کو درست قرار دینے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ بل کو قانونی شکل دئے جانے کے بعد سب سے پہلے ریاست آسام میں احتجاج پر تشدد شکل اختیار کرگیا ۔ جو نہ صرف مذہب بلکہ تہذیب پر حملہ قرار دیتے ہوئے مخالفت کا موجب بنا جس کے بعد بنگلور ، کیرالہ ، مغربی بنگال ، اترپردیش ، بہار اس طرح ملک کے دیگر بڑے شہریوں میں احتجاج آج بھی جاری ہے ۔ اس جانب سب سے پہلے کانگریس زیر قیادت والی ریاست پنجاب اور کیرلہ کے علاوہ ہندوتوا طاقتوں کا منہ توڑ جواب دینے والی دیدی نے دلیری دکھاتے ہوئے ریاست میں اس قانون کی عمل آوری سے صاف طور پر انکار کردیا جبکہ اس سلسلہ میں شیوسینا جیسی جماعت نے بھی اپنا مخالف رخ اختیار کئے ہوئے قانون کی مخالفت میں احتجاج اعلی تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ کی جانب سے بلالحاظ مذہب و ملت جاری ہے اور ہندو مسلم بھائی چارگی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے جمہوریت کی بقاء کیلئے احتجاج کیا جارہا ہے ۔ لیکن سیکولر اقدار والی کئی علاقائی جماعتوں کی اس مسئلہ پر خاموشی معنی خیز ثابت ہو رہی ہے ۔ جبکہ حکومتوں سے ہر چیز کو منوانے کا جذبہ رکھنے اور دبدبہ کا دعوی کرنے والے کیا اس مسلہ سے انجان تو نہیں یا پھر موٹے بھائی کیلئے لمبے بھائی کا کوئی اشارہ تو نہیں ۔ ویسے تو ریاست تلنگانہ میں دو ہندسوں سے تجاوز نہ کرنے والی جماعت کا پڑوسی ریاستوں اور ملک کے دیگر حصوں میں سیاسی مقابلہ سوداگری کی شکل تو اختیار کر گیا ہے اور اب شہریوں کو اس کا احساس بھی ہونے لگا ہے ۔ ہجومی تشدد ، طلاق ثلاثہ اس کے بعد آرٹیکل 370 اس کے بعد بابری مسجد کا فیصلہ اور اس کے بعد اب شہریت ترمیمی قانون لیکن اب جب مسلمان اتنا سب ہونے کے بعد احتجاج کر رہے ہیں تو انہیں احتجاج کے جمہوری حق سے روکا جارہا ہے ۔ جو ہر شہری کا جمہوری و بنیادی حق ہے اور اس احتجاج پر خاموشی احتیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ملک بھر میں مقابلہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے ہیرو اور قومی قیادت حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے رکن پارلیمنٹ کو شمالی ہند اترپردیش کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان سے سبق سیکھاناچاہئے جن کے خلاف 89 مقدمات درج ہیں اور مسلماونں کے حق میں آواز اٹھانے کیلئے انہیں ہر دن ہندوتوا طاقتوں سے کسی نہ کسی قسم کی آزمائش کا سامنا رہتا ہے بلکہ رکن پارلیمنٹ بہ آسانی پورے ملک میں آزاد بغیر کسی رکاوٹ کے گھومتے پھرتے ہیں ۔