ڈھاکہ کی سڑکوں پر بکتر بندگاڑیاں، ٹینکس اور سیکوریٹی اہلکاروں کا غلبہ، بنگلہ دیش کو جماعتی حکمرانی والا ملک بنانے کی کوشش
ڈھاکہ: ڈھاکہ کی سڑکوں پر بکتر بند گاڑیوں، ٹینکوں سے لیس سکیورٹی اہلکاروں کو دیکھ کر ستم ظریفی کا احساس ہوا کہ جو ایسی حکومت کا تحفظ کر رہے ہیں جس کا ظہور انہیں افواج کی مرہونِ منت ہوا جنہوں نے 1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کو روکنے والی پاکستانی افواج کے خلاف مزاحمت کی تھی۔پہلے مشرقی پاکستان کہلائے جانے والے ملک میں افراتفری کی کیفیت اس وقت پیدا ہوئی کہ جب وہاں ایسے قوانین کا دوبارہ نفاذ ہوا کہ جن کے تحت بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی میں لڑنے والوں کے خاندان کو سرکاری نوکریوں میں تقریباً 30 فیصد کوٹہ دیا گیا۔ 1972ء میں جب اس وقت کے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمن نے پہلی بار کوٹہ مختص کیا تو یہ بالکل بھی متنازعہ نہیں تھا۔ اس وقت شاید ہی ایسا کوئی حلقہ ہوتا جو اسلام آباد کے تسلط کے خلاف مزاحمت کرنے والوں یا ان کے خاندانوں کو خصوصی اہمیت دیے جانے پر اعتراض کرتا۔نصف صدی گزر جانے کے بعد ایسے قوانین کا دفاع انتہائی مشکل ہے بالخصوص ایسے دور میں کہ جب ملک میں گریجویٹ نوجوانوں کے درمیان بیروزگاری، قومی اوسط کی حد سے تجاوز کرچکی ہے۔ 2018ء میں اس کوٹہ کو منسوخ کردیا گیا اور اس پر عمل درآمد بھی ہوا لیکن گزشتہ ماہ ہائی کورٹ کی جانب سے اسے بحال کردیا گیا۔درجنوں اموات اور سینکڑوں افراد کی گرفتاریوں کے بعد عوام کے غصے اور حالات کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے کیلئے محض سپریم کورٹ کا کوٹہ کم کرنے کا حکم نامہ کافی نہیں ہوگا۔ تاہم کرفیو اور اس کی خلاف ورزی پر گولی ماردینے کے احکامات کے باعث عارضی طور پر کچھ حد تک حالات قابو میں آچکے ہیں۔ خالدہ ضیا کے بعد بنگلہ دیش کی دوسری خاتون وزیراعظم شیخ حسینہ واجد 2009ء کے بعد سے مسلسل 4 میعادوں کیلئے وزیراعظم منتخب ہوچکی ہیں اور اپنی حکومت میں بنگلہ دیش کو یک جماعتی ملک بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ وہ اسی راہ پر چل رہی ہیں جو ان کے والد شیخ مجیب الرحمن نے 1975ء میں بنگلہ دیش کے فوجی افسران کے ہاتھوں قتل کیے جانے سے چند ماہ پہلے منتخب کیا تھا۔پاکستان میں جنرل ضیاالحق کے آنے سے دو سال قبل بنگلہ دیش میں بھی ایک جنرل ضیا تھے (جنرل ضیاالرحمن) لیکن 1981ء میں وہ ملٹری کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس کے بعد ایسے جنرل (حسین محمد ارشاد) کی راہ ہموار ہوئی جن کے مذہبی خیالات کافی حد تک پاکستان کے ضیاالحق سے مماثل تھے۔ بعدازاں حسینہ واجد اور خالدہ ضیا متحد ہوئیں اور جنرل ارشاد کو صدارت سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئیں اور یوں خالدہ ضیا اور حسینہ واجد یکے بعد دیگرے بنگلہ دیش کی وزیراعظم بنیں۔اس دور کے جمہوری نتائج پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک سے زیادہ مثبت تھے لیکن آمریت کا ایک اور دور آیا اور دونوں ’بیگمات‘ کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ تاہم 2009ء تک حسینہ واجد سیاسی منظرنامے میں وزیراعظم کے روپ میں اْبھرنے میں کامیاب رہیں۔2009ء کے بعد سے ہر طرح کے حالات میں شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش پر حکمرانی کرتی رہیں جبکہ اپنے دور میں انہوں نے اپوزیشن کی مذمت اور انہیں جیل میں ڈالنے سے دریغ نہیں کیا۔ ان کی حکومت میں مخالفین کی جیل میں ہلاکتیں اور گمشدگیاں ہوئیں مگر اپنے والد کی طرح ان کا بھی مقصد بنگلہ دیش کو یک جماعتی ریاست بنانا بن گیا۔