شیخ ریاض کے اہل خانہ سے سابق ڈپٹی میئر و دیگر کی ملاقات

   

نظام آباد۔ 24 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق ڈپٹی میئر میر مجاز علی نے آج حافظ محمد لئیق خان کے ہمراہ پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے شیخ ریاض کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے واقعے پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ معاملہ نہ صرف نظام آباد بلکہ پورے تلنگانہ میں عوامی سطح پر شدید ردعمل پیدا کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوامی رائے ایمانداری سے لی جائے تو اکثریت اس واقعہ کو انکاؤنٹر نہیں بلکہ ’’قتل‘‘ قرار دے گی۔میر مجاز علی نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی گرفت سے بچنے کے لیے پولیس پر حملہ کرتا ہے تو یہ ایک وقتی ردعمل یا غیر ارادی اقدام ہوسکتا ہے مگر اسپتال جیسے مقام پر جہاں ایک معمولی شور بھی ناقابلِ قبول ہے، ایک ایسے شخص پر گولی چلانا جس کے ہاتھ اور پاؤں پہلے ہی ٹوٹے ہوئے ہوں، انتہائی افسوسناک اور غیرانسانی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اگر واقعی عدلیہ پر اعتماد رکھتی تو وہ ریاض کے خلاف قانونی دائرے میں رہ کر کارروائی کرسکتی تھی، روزانہ کی بنیاد پر اسے عدالت کے روبرو لاتی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ’’عدلیہ پر اعتماد نہ رکھنا اور انتقام کے جذبے سے قتل کا بدلہ قتل لینا۔ریاستی اداروں کے وقار پر سوالیہ نشان ہے،‘‘ میر مجاز علی نے کہا کہ انکاؤنٹر کے بعد شہر میں چند مقامات پر موسیقی لگا کر انٹرنیشنل کریمنل لارنس بشنوی کی تصویر کے ساتھ ایک آئی پی ایس افیسر کی تصویر لے کر جشن منانا غور طلب بات ہے اور اس سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے یہ افراد کس قدر گر گئے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف ایک شخص کے قتل کا ہے بلکہ اس کے اہل خانہ، خصوصاً بیوی اور معصوم بچوں کے ساتھ کی گئی بربریت بھی انسانیت کے دامن پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اگر عدل و انصاف کا نظام برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے ایسے واقعات سے گریز کرتے ہوئے عوامی اعتماد بحال کرنا ہوگا۔