3 امیدواروں کو قطعیت، جگن نے مسلمانوں سے کئے وعدہ کی تکمیل کی
حیدرآباد۔/13 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھرا پردیش اور صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے ایم ایل اے کوٹہ کی3 ایم ایل سی نشستوں کیلئے پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ دعوت افطار میں مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے جگن موہن ریڈی نے سابق آئی پی ایس عہدیدار شیخ محمد اقبال کی امیدواری کا اعلان کیا۔ ان کے علاوہ دیگر 2 امیدواروں میں ریاستی وزیر موپی دیوی وینکٹ رمنا اور کرنول ضلع سے تعلق رکھنے والے سینئر قائد چلا رام کرشنا ریڈی شامل ہیں۔ پارٹی کے سینئر قائدین سے مشاورت کے بعد جگن نے تینوں ناموں کی منظوری دی۔ کونسل کی تینوں نشستوں کیلئے اہم طبقات کو نمائندگی دی گئی ہے۔ موپی دیوی وینکٹ رمنا ( بی سی) ، شیخ محمد اقبال( مسلم) اور چلا رام کرشنا ریڈی ( ریڈی ) طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ایم ایل اے کوٹہ کی تین نشستوں کے ارکان کے استعفی کے باعث یہ نشستیں خالی ہوئی ہیں اور الیکشن کمیشن نے الیکشن کیلئے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔14 اگسٹ تک پرچہ جات نامزدگی داخل کئے جاسکتے ہیں۔ توقع ہے کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے تینوں ارکان 14 اگسٹ کو پرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔ اسمبلی میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی عددی طاقت کے اعتبار سے تینوں نشستوں پر پارٹی امیدواروں کی کامیابی طئے ہے۔ تلگودیشم کے پاس ایک بھی نشست کی کامیابی کیلئے درکار ارکان موجود نہیں لہذا وائی ایس آر کانگریس کے تینوں امیدواروں کا متفقہ طور پر انتخاب عمل میں آئے گا جس کا اعلان پرچہ نامزدگی کا وقت گذرنے کے بعد کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل پولیس شیخ محمد اقبال نے اسمبلی انتخابات سے قبل وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے ہندوپور اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کیا تاہم تلگودیشم کے فلم اسٹار بالا کرشنا کے مقابلہ انہیں شکست ہوئی۔ وائی ایس جگن نے شیخ محمد اقبال کو ایم ایل سی نشست کا وعدہ کیا تھا ۔ آندھرا پردیش کی کابینہ میں ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ مسلمان کو دیا گیا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ شیخ محمد اقبال کو ایم ایل سی منتخب ہونے کے بعد کابینہ میں شامل کیا جائے گا یا پھر انہیں وقف بورڈ کا صدرنشین مقرر کیا جاسکتا ہے۔ آندھرا پردیش میں وقف بورڈ کو تحلیل کیاجاچکا ہے۔ شیخ محمد اقبال متحدہ آندھرا پردیش میں وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد انہوں نے آندھرا پردیش میں کمشنر اقلیتی بہبود اور اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کے اہم عہدوں پر خدمات انجام دی تھیں۔
