امید ہے ماضی میں دیئے گئے دھوکے کو دہرایا نہیں جائے گا، مسلم ووٹر کونسل کے سربراہ عبدالباری کا بیان
ممبئی : شیو سینا یو بی ٹی اور کانگریس اس بات کی یقین دہانی کرے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی سے سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔کیونکہ ماضی میں اس طرح کا دھوکہ ہو چکا ہے خاص طور سے شیو سینا کے لیڈروں نے ایسا کیا ہے – ان خیالات کا اظہار مسلم ووٹر کونسل کے سربراہ عبد الباری خان نے کیا۔ یہاں منعقدہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں وزیر اعظم مودی نے مہاراشٹر میں ایک جلسے میں ادھو ٹھاکرے کے تعلق سے کہا تھا کہ ضرورت محسوس ہونے پر وہ شیوسینا سربراہ کے لئے کھڑے رہیں گے نیز مہاراشٹرا کے ایک ذمہ دار وزیر دیپک کیسرکر نے بھی چند دنوں قبل یہ انکشاف کیا تھا کہ ادھو ٹھاکر ے نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دہلی جاکر وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی تھی۔ عبد الباری خان نے کہا کہ ان دو باتوں کے تناظر میں اودھو ٹھاکرئے نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا لہٰذا اب اس بات کا خدشہ لاحق ہے کہ نتائج کے بعد کہیں شیوسینا یو بی ٹی زعفرانی پارٹی سے سیاسی مفاہمت نہ کر لیں ۔ انہوں نے ادھو ٹھاکرے سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ضمن میں ایک تحریری یقین دہانی کریں اور وضاحت کریں کہ شیوسینا کسی حالت میں بھی بی جے پی سے قربت نہیں رکھے گی ۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں ممبئ کے خلافت ہائوس میں مسلم انٹل ایکچوئل فورم اور مسلم ووٹرس کونسل کی جانب سے ایک مذاکرہ رکھا گیا تھا جس میں تمام سیکولر سیاسی پارٹیوں سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کویقین دلائیں کہ حصول اقتدار کے لئے انکے منتخب نمائندئے ہا پھر وہ بی جے پی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے نیز وہ شہریت سے متعلقہ قانون کی مخالفت کرینگے اور مسلمانوں کو ریزرویشن دلانے کی حمایت کرینگے ۔ ووٹر کونسل کے سربراہ نے کہا کہ مذکورہ پروگرام میں صرف این سی پی (شرد پوار) کے قومی جنرل سیکرٹری اور ونچت بہوجن آگھاڑی کے لیڈران شریک ہوئے تھے اور انہوں نے مسلمانوں کے تمام مطالبات تسلیم کئے تھے جبکہ اس تعلق سے کانگریس اور شیوسینا کی جانب سے شرکت کے لئے حاضری بھرنے کے باوجود انکا کوئی نمائندہ حاضر نہیں ہوا اور انہوں نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس تعلق سے مسلم ووٹرس کونسل کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا ، آج اسی مناسبت سے پریس کانفرنس کرکے کانگریس اور شیو سینا سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اخباری نمائندوں کو مزید بتلایا گیا کہ کونسل کا تعلق کسی سیاسی جماعت اور کسی امیدوار کی حمایت اور مخالفت سے نہیں ہے بلکہ وہ چاہتی ہیکہ ان تمام باتوں کے پیش نظر مسلمان خود فیصلہ کریں کہ انکے جمہوری حق کا استعمال کس پارٹی کے حق میں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب برقرار رہنی چاہیے فرقہ پرستوں اور انکی ہمنواسیاسی جماعتوں کو برسر اقتدار آنے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔