اقتدار میں کوئی مساویانہ ساجھیداری نہیں ہوگی: گڈکری، چیف منسٹر کے عہدہ سے کم کچھ نہیں چاہئے : سنجے راؤت
کانگریس کے ارکان اسمبلی کو انحراف کیلئے لالچ کی پیشکش
ممبئی 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے جمعہ کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیدیاکیوں کہ ان کی پارٹی بی جے پی کی حلیف شیوسینا نے ریاست میں اتحاد کی حکومت بنانے کے لئے کی جانے والی تمام کوششوں کو شیوسینا نے جارحانہ تیور اپناتے ہوئے مسترد کردیا۔ 49 سالہ فڈنویس نے راج بھون میں پہونچ کر گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو استعفیٰ پیش کیا اور گورنر نے اُنھیں متبادل انتظام تک بحیثیت نگران کار چیف منسٹر خدمات انجام دینے کی ہدایت کی۔ اسمبلی کے لئے 21 اکٹوبر کو منعقدہ انتخابات کے نتائج کے اعلان کے 15 دن بعد یہ حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ تشکیل حکومت کے لئے پیدا شدہ اس تعطل کے لئے بی جے پی اور شیوسینا دونوں ہی ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ فڈنویس نے شیوسینا کو تعطل کے لئے ذمہ دار قرار دیا اور کہاکہ ان کی موجودگی میں اقتدار میں 50:50 ساجھیداری کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا تھا۔ فڈنویس نے کہاکہ شیوسینا نے بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس اور این سی پی سے بات چیت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ ’امیت شاہ جی اور گڈکری جی نے شیوسینا کو چیف منسٹر کا عہدہ دینے سے کبھی بھی اتفاق نہیں کیا۔ فڈنویس نے نتائج کے اعلان کے دن سے ہی یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ان کے پاس حکومت دینے کے تمام راستے کھلے ہیں۔ ان کا یہ اعلان ہمارے لئے کافی تکلیف دہ تھا۔ شیوسینا کے رکن راجیہ سبھا راؤت نے ایک سخت بیان میں کہاکہ ’بی جے پی کو چاہئے کہ وہ عبوری انتظامیہ کو طوالت نہ دے
اور پردہ کے پیچھے سے کام نہ کیا جائے۔ بی جے پی اگر واحد بڑی جماعت کی حیثیت سے اگر اپنا ادعا پیش کرسکتی ہے اور اپنی حکومت تشکیل دیتی ہے تو ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے‘۔ راؤت نے کہاکہ ’ہم بہت جلد گورنر بی ایس کوشیاری سے ملاقات کریں گے۔ اسمبلی کی میعاد مکمل ہونے کے بعد گورنر ہی ریاست کے سرپرست ہوتے ہیں۔ دوسری طرف نتن گڈکری نے جمعہ کو یہاں پہونچنے کے بعد اشارہ دیا کہ وہ دونوں جماعتوں کے مابین پیدا شدہ تعطل کے خاتمہ کے لئے وہ کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔ اُنھوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’جہاں تک مجھے علم ہے مہاراشٹرا میں قلمدانوں کی تقسیم کے لئے بی جے پی اور شیوسینا کے مابین کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے‘‘۔ مہاراشٹرا میں تشکیل حکومت کے لئے پیدا شدہ تعطل کے درمیان شیوسینا اور کانگریس نے مبینہ طور پر بی جے پی کی طرف سے ارکان اسمبلی کو خریدنے یا لالچ دینے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیاکہ اس کے ارکان اسمبلی کو وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔ مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بالا صاحب تھورات نے کہاکہ ان کی پارٹی نے ریاست میں شیوسینا کی قیادت میں کسی حکومت کی تائید کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تھورات نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’کانگریس کے چند ارکان اسمبلی (پارٹی بدلنے کیلئے کی جانے والی) ہراسانی سے بچنے کے لئے ممبئی سے باہر چلے گئے ہیں۔ نومنتخب ارکان مقننہ نے ہمیں بتایا کہ انحراف کے لئے اُنھیں لالچ کی پیشکش کی گئی ہے‘۔ تاہم ایک اور کانگریس لیڈر مانک راؤ ٹھاکرے نے کہاکہ مہاراشٹرا میں بی جے پی زیرقیادت حکومت کی تشکیل کو روکنے کے لئے کانگریس کو کچھ کرنا چاہئے۔
