کیش واؤچر اسکیم 31 مارچ 2021 ء تک جاری رہے گی، ہوائی جہاز یا ریل کرایہ اہلیت اور درجہ بندی کے مطابق ہوگا
نئی دہلی: کورونا کی وجہ سے بری طرح متاثر معیشت کو تیز رفتاری عطا کرنے اور تہوار کے موسم میں صارفین کی طلب میں اضافے پر زور دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے پیر کو مرکزی ملازمین کے لئے ہالی ڈے ٹریول ریبٹ (ایل ٹی سی) کیش واؤچر اسکیم، خصوصی فیسٹول ایڈوانس اسکیم اور اضافی 37 ہزار کروڑ روپئے کے سرمایہ جاتی اخراجات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے تقریبا ایک لاکھ کروڑ روپئے کی مانگ بڑھانے میں مدد مل سکے گی۔وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اور وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے یہ اعلان یہاں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران کیا۔ محترمہ سیتارمن نے کہا کہ کورونا کا معیشت پر بہت برا اثر پڑا ہے ۔ خود کفیل ہندوستان پیکیج کے تحت غریب اور کمزور طبقوں کی مدد کی گئی ہے اور سپلائی کی رکاوٹوں کو ختم کرنے پر زور دیا جارہا ہے ۔ اس کے باوجود ، صارفین کی مانگ اب بھی کم ہے ۔ اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے ، ایسے پیکیج تیار کیے گئے ہیں جس سے نہ صرف جی ڈی پی میں اضافے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ افراط زر پر بھی اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی ملازمین کے لئے ایل ٹی سی کیش واؤچر اسکیم شروع کی جارہی ہے ، جو 31 مارچ 2021 تک جاری رہے گی۔ اس کے تحت ، سال 2018-21 کے چار سالہ بلاک میں دو بار یا آبائی شہر اور ایک بار آبای شہر اور ملک کے کسی دوسرے مقام پر جانے کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔ اس کے لئے ، ہوائی یا ریل کا کرایہ اہلیت اور گریڈ کے مطابق دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ، 10 دن کی چھٹیوں کا انکیشمنٹ بھی دستیاب ہوگا۔محترمہ سیتارمن نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے جو ملازمین جو 2018-21 بلاک کے ایل ٹی سی استعمال نہیں کرسکے ہیں اور اگر وہ اب ایل ٹی سی کیش واؤچر اسکیم کا استعمال کرتے ہیں تو انہیں مکمل چھٹی انکیشمنٹ مل جائے گی۔ اہلیت کے مطابق کرایہ کی ادائیگی کو تین سلیب میں تقسیم کیا گیا ہے اور اسی کے مطابق ٹیکس فری ٹریول الاؤنس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ س اسکیم کو استعمال کرنے والے ملازمین کو کرایے کی رقم سے تین گنا اور چھٹی کے انکیشمنٹ کا ایک گنا خرچ کرنا ہوگا۔ یہ اخراجات 12 فیصد یا اس سے زیادہ جی ایس ٹی ٹیکس والی مصنوعات پر کرنے ہوں گے اور اس اخراجات کی جی ایس ٹی رسید بھی جمع کروانی ہوگی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مرکزی حکومت اس اسکیم پر 5،675 کروڑ روپئے خرچ کرے گی۔ سرکاری بینکوں اور پبلک سیکٹر کے بھی 1،900 کروڑ روپے خرچ ہونے کی توقع ہے – ایل ٹی سی کیش واؤچر اسکیم کے تحت دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا فائدہ ریاستی حکومتوں کے ملازمین اور نجی شعبے کے ملازمین کو بھی دستیاب ہوگا۔ مرکزی حکومت اس سلسلے میں رہنما اصول جاری کرے گی۔محترمہ سیتارمن نے کہا کہ مرکزی ملازمین ، بینکوں اور پی ایس یو کے ملازمین کے ذریعہ اس اسکیم کے استعمال پر 19 ہزار کروڑ روپئے کی مانگ میں اضافہ متوقع ہے ۔
