صحافت مقدس پیشہ، غیر معمولی خدمات کیلئے صحافی قابل احترام: پروفیسر عین الحسن

,

   

مانو میں صحافت کے 200 سالہ جشن ، ’’کاروان صحافت‘‘ کا بین الاقوامی کانفرنس کے ساتھ اختتام
ہم حکومتوں کی نہیں اپنے رب کی رضا کیلئے کام کرتے ہیں: عامر علی خان

حیدرآباد ۔15 ۔ نومبر (سیاست نیوز) موجودہ حالات سے اردو صحافت اور اس کے قارئین بالعموم مسلمانوں کو مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمیشہ ایک جیسے حالات نہیں رہتے۔ زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں اور کامیابی انہی کو ملتی ہے جو ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور پیشہ صحافت جہاں خدمت خلق کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ، وہیں ایک پر خطر پیشہ بھی ہے لیکن صحافت اور صحافیوں پر تنقید کرنے والے اس حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں کہ کس طرح صحافیوں کو پر خطر راہوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کے ضمن میں منعقدہ ’’کاروان اردو صحافت‘‘ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی دن ملک کے ممتاز صحافیوں نے کیا، جس کا اہتمام مانو کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت نے کیا تھا ۔ گزشتہ تین دن سے مختلف موضوعات پر ممتاز صحافیوں و دانشوروں نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اردو صحافت کے آغاز اس کے ارتقاء ، اسے درپیش مسائل و چیلنجس اور ان کے حل پر اپنے زرین خیالات پیش کئے ۔ اس انٹرنیشنل کانفرنس کے اختتامی دن وائس چانسلر مانو پروفیسر سید عین الحسن نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ سماج کے تئیں خدمات کیلئے صحافی انتہائی احترام کے مستحق ہیں۔ انہوں نے پیشہ صحافت کو ایک مقدس پیشہ قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگرچہ یہ مقدس پیشہ ہے لیکن نہایت پر خطر بھی ہے۔ صحافی جس طرح فسادات اور ہنگامی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ صحافی کیسے سنگین حالات میں کام کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے طلبہ کو فیلڈ رپورٹنگ سے واقف کروانے کی ضرورت ہے اور ہمیں خاص طور پر اردو صحافت کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے نوجوانوں میں کسی چیز کیلئے ڈر وخوف نہ رہے بلکہ وہ ہر مشکل کام کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی اور آسمان صحافت کی ممتاز شخصیت پروفیسر شافع قدوائی نے اپنے پر مغز خطاب میں سہ روزہ کانفرنس میں پیش کئے گئے مقالہ جات کے حوالے سے کہا کہ ان میں اردو صحافت کے شاندار ماضی پر بھرپور انداز میں روشنی ڈالی گئی ، ساتھ ہی صحافت کے بنیادی اصولوں پر خاص توجہ مرکوز کی گئی اور بتایا گیا کہ صحافت کے لوازمات اور صحافیوں کے فرائض کیا ہوتے ہیں، مہمان اعزازی ، نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں اردو صحافت ، ملک کی موجودہ صورتحال اور مسلمانوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی اور شرکاء کو بیباکی کا پیام دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اردو صحافت اور مسلمانوں کی حالت پر فکر و تشویش اور ڈر و خوف میں مبتلا ہونے کی بجائے اپنے عزم و حوصلوں کو بلند رکھتے ہوئے اپنے قدم آگے بڑھانے چاہئے ۔ انہوں نے ببانگ دہل کہا کہ اردو صحافت نے آزادی سے پہلے بھی نڈر و بیباک انداز میں قوم کی رہنمائی کی اور موجودہ نامساعد حالات میں بھی قوم و ملت کی رہنمائی میں وہ کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتے گی۔ انہوں نے خود روزنامہ سیاست کے حوالے سے کہا کہ ہم حکومتوں کو خوش کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنے رب کو راضی کرنے کیلئے صحافتی فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ اس ضمن میں عامر علی خاں نے نامعلوم مسلم میتوںکی تجہیز و تکفین کے حوالے سے کہا کہ تاحال 6 ہزار سے زائد میتوں کی تجہیز و تکفین ادارہ سیاست کی جانب سے کی گئی اور یہ کام صحافت یا اخبار کے فروغ کیلئے نہیں کیا گیا بلکہ اللہ کی رضا کیلئے کیا گیا ۔ اپنے خطاب میں ایک مرحلہ پر عامر علی خاں نے کہا کہ پہلے انگریزی محاورہ Each One Teach One کی گونج سنائی دیتی تھی لیکن وہ چاہتے ہیں کہ Each One Help One ’’ایک دوسرے کی مدد کرے‘‘ کا نعرہ کی ہمارے معاشرہ میںگونج سنائی دے۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ ہمیں اپنے مسائل پیش کرنے کے معاملہ میں کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نیوز ایڈیٹر سیاست کے مطابق مسلمانوں کوچاہئے کہ وہ خود کو بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ کریں۔ تب ہی آپ ابنائے وطن کو یہ احساس دلاسکتے ہیں کہ ہم سب ایک ہیں اورا پنے اتحاد کے ذریعہ ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں ۔

کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں ڈاکٹر آنند راج ورما نے اپنے فکر انگیز خطاب میں کہا کہ اردو صحافت کو دوسری زبانوں کے ساتھ بھی اپنا رشتہ برقرار رکھنا چاہئے۔ اردو صحافی انگریزی اور علاقائی زبانوں پر عبور حاصل کرتے ہوئے اردو صحافت کو چار چاند لگاسکتے ہیں۔ جناب شمیم طارق نے اپنے خطاب میں اردو زبان کو ایک عاشقانہ ہی نہیں بلکہ انقلابی زبان قرار دیا اور کہا کہ تحریک آزادی میں اردو زبان و صحافت نے جو کردار ادا کیا اسے سب جانتے ہیں ۔ اردو کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے یہ بتاتے ہوئے شرکاء کو ایک خوشگوار حیرت سے دوچار کیا کہ شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے اپنے اخبار سامنا پر ’’جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو‘‘ جیسا انقلابی مصرعہ لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے اردو صحافت کی تاریخ اس کے کارناموں اور ذمہ داریوں کو دلکش انداز میں پیش کیا اور کہا کہ عاشقان اردو کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ ممتاز صحافی عزیز برنی نے اردو صحافت کی انقلابی روش پر متاثر کن انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت مولوی محمد باقر کی شکل میں کبھی توب کے دہانے پر رکھ کر اڑائی گئی تو کبھی مولانا ابوالکلام آزاد کی شکل میں جیلوں کے تہہ خانوں میں بند رہی لیکن اس نے ہمیشہ حق کی آواز بلند کی۔ ملک کے دشمنوں کے خلاف آواز اٹھائی ۔ سچائی و انصاف کا سربلند کیا ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سبرت رائے سہارا اور راموجی راؤ کا بطور خاص ذکر کیا اور کہا کہ اردو صحافت کے فروغ میں ان شخصیتوں کا بھی حصہ ہے۔ جناب قربان علی نے اردو صحافت کے بارے میں کہا کہ اس کے 200 سال میں 125 سال کا عرصہ کافی تابناک رہا لیکن افسوس ملک کی آزادی میں سب سے اہم کر دار ادا کرنے اور حکومت کے قیام میں معاون اردو صحافت و زبان کو آزادی کے بعد بالکلیہ طور پر نظر انداز کردیا گیا لیکن اردو صحافت کی یہ شان رہی کہ اس نے ہمیشہ کمزوروں اور مظلوموں کے آنسو پونچھے۔ محترم ستیش جیکپ نے اپنے مختصر خطاب میں اردو کو محبت کی زبان قرار دیا اور کہا کہ اردو زبان و صحافت نے ملک کو جوڑنے کا کام کیا ۔ ممتاز اینکر امتیاز خلیل ، جامع حبیب اور دوسروں نے بھی خطاب کیا ۔ پروفیسر اشتیاق احمد رجسٹرار نے آخر میں اس تاریخی کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر شکریہ ادا کیا ۔ پروفیسر محمد فرہاد صدر شعبہ ایم سی جے نے کارروائی چلائی اور پروفیسر احتشام احمد خاں ڈین اسکول برائے ترسیل عامہ و صحافت نے کانفرنس سے متعلق رپورٹ پیش کی ۔ اس طرح اردو صحافت کی 200 ویں سالگرہ سے متعلق ایک یادگار کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔