فوج پہلے تباہ ہوگی، اسٹبلشمنٹ خود کو نیوٹرل کہتی ہے،مگر سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز کہاں ہے
اسلام آباد: سابق وز یراعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ اگر درست فیصلے نہ کیے گئے تو فوج تباہ ہوجائیگی اور پاکستان کے 3 ٹکڑے ہوجائنگے۔بول نیوز کے پروگرام ’تجزیہ‘ کے اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انتخابات کا اعلان نہ ہوا تو ملک خانہ جنگی کی طرف جائے گا۔ان کا کہنا تھا ’ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ ہمیں قانونی اور آئینی طریقوں سے انتخابات کی جانب جانے دیتے ہیں ورنہ یہ ملک خانہ جنگی کی طرف چلا جائے گا‘۔عمران خان نے کہا کہ جب ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو ان کی حکومت کمزور تھی اور اسے اتحادیوں کی ضرورت پڑی، انہوں نے مزید کہا کہ اگر دوبارہ وہی صورتحال پیدا ہوئی تو وہ دوبارہ انتخابات کی جانب جائیں گے اور اکثریت حاصل کریں گے ورنہ اقتدار قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کوئی وضاحت یا حوالہ دیے بغیر کہا ’ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، ہمیں ہر جگہ سے بلیک میل کیا گیا، طاقت ہمارے پاس نہیں تھی، سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز کہاں ہے اس لیے ہمیں ان پر انحصار کرنا پڑا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ ان کی حکومت برسراقتدار تھی لیکن اس کے پاس تمام طاقت اور اختیار نہیں تھا۔انہوں نے کہا ’اگر میں اقتدار میں ہوں لیکن میرے پاس مکمل طاقت اور اختیار نہ ہو تو کوئی ادارہ کام نہیں کرتا، نظام تب کام کرتا ہے جب اقتدار اور اختیار ایک جگہ ہو۔تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر ملکی اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ خود کو نیوٹرل کہتے ہیں، لیکن عوام جانتے ہیں کہ طاقت آپ کے پاس ہی ہے۔جمعرات کو خیبرپختونخوا کے علاقے شانگلہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ سوویت یونین اس لیے ٹوٹا کیوں کہ اس کی معیشت کمزور ہو چکی تھی، لہذٰا اتنی مضبوط فوج بھی اسے ٹوٹنے سے نہیں بچا سکی تھی۔اُن کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ خود کو نیوٹرل کہتی ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ کتنی طاقت ور ہے۔ لہذٰا وہ اسے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ لوگ اس بات کو معاف نہیں کریں گے کہ ملک نیچے جا رہا تھا اور آپ دیکھ رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ وہ مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان کی پارٹی کی درخواست پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں، جس کے بعد وہ اگلے مارچ کی تاریخ دیں گے۔ان کا کہنا تھا ’یہ اصل میں پاکستان کا مسئلہ ہے، اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ ہے، اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں یہ بھی تباہ ہوں گے اور فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی کیونکہ ملک دیوالیہ ہوگا‘۔عمران خان نے کہا کہ ’اگر ہم دیوالیہ کر جاتے ہیں تو پاک فوج نشانہ بنے ہوگی، جب فوج نشانہ بنے گی تو ہم سے ایٹمی پروگرام لے لیا جائے گا‘۔عمران خان نے کہا کہ اگر پاکستان اپنی جوہری صلاحیت کھو دیتا ہے تو اس کے 3 ٹکڑے ہو جائیں گے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس وقت درست فیصلے نہ کیے گئے تو ملک خودکشی کی جانب جا رہا ہے۔عدم اعتماد کے ووٹ کی رات سے متعلق سوال پر عمران خان نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی، چیزیں سامنے آتی ہیں، اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا لیکن جب تاریخ لکھی جائے گی تو وہ ایسی رات شمار کی جائے گی جس میں پاکستان اور اس کے اداروں کو بہت نقصان پہنچا‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ان اداروں نے ہی پاکستان کو کمزور کیا جنہوں نے اس کی بنیاد رکھی تھی اور اسے مضبوط کیا تھا۔