واشنگٹن : صدام حسین کو پھانسی دیئے ہوئے 20 سال گزر چکے ہیں تاہم اب بھی ان کی گرفتاری اور مقدمہ کے حوالے سے بہت کچھ پردہ راز میں ہے۔صدام حسین کے دفاع کے سابق سربراہ ڈاکٹر خلیل الدلیمی نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح امریکہ نے سابق عراقی صدر کو گرفتار کرنے کے اصرار کے باوجود کچھ شرائط پر انہیں عام عافی کی پیشکش کی تھی۔خلیل الدلیمی نے ‘‘العربیہ’’ پر سیاسی یادداشت کے پروگرام کے ایک حصے کے اندر وضاحت کی کہ امریکیوں نے صدام کے ساتھ بات چیت کی اور تجویز پیش کی کہ وہ اپنی طرف سے کسی کو عراقی جمہوریہ کا نائب صدر مقرر کرنے کیلئے نامزد کریں لیکن اس کے پاس بڑے اختیارات نہ ہوں۔ ایسا کرنے پر صدام حسین کو معافی کی پیش کش کی گئی تھی۔انہوں نے یہ شرط بھی رکھی کہ وہ فلوجہ میں امریکی افواج کے خلاف لڑنا چھوڑ دیں۔انہوں نے صدام حسین کو رہائی کے بعد ملک چھوڑنے کیلئے کہا، لیکن صدام نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا، الدلیمی نے تصدیق کی کہ صدام حسین نے خود یہ شرائط مجھے بتائی تھیں۔الدلیمی نے اپنی صدام حسین سے پہلی ملاقات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ مجھے شروع سے ہی شک تھا کہ ان سے ملنے والا شخص صدام حسین کے مشابہ ہوگا حقیقی صدام حسین نہیں ہوگا کیونکہ بتایا گیا تھا کہ سابق صدر کی ذاتی حفاظت کیلئے 40 سے زیادہ اسی طرح کے لوگوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن ان سے بات کرنے کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ وہ حقیقی صدام حسین تھے۔انہوں نے کہا پہلے تو میں نے سوچا کہ مجھے مخاطب کرنے والا صدام سے ملتا جلتا ہے۔ گرفتاری اور نفسیاتی اور جسمانی اذیت کی وجہ سے ان کی حالت بدلی ہوئی تھی۔