صدر اور نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات میں ٹی آر ایس کا امتحان

   

کے سی آر اپوزیشن کے متحدہ امیدوار کے حق میں، شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے نے یو پی نتائج تک انتظار کا دیا مشورہ

حیدرآباد۔/22 فروری، ( سیاست نیوز) نریندر مودی حکومت اور بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا حقیقی امتحان عنقریب ہوگا جب ملک میں صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے عہدوں کیلئے انتخابات ہوں گے۔ سابق میں کے سی آر نے دونوں عہدوںکیلئے بی جے پی کے امیدواروں رام ناتھ کووند اور وینکیا نائیڈو کی تائید کی تھی۔ قومی سطح پر تیسرے محاذ کی تیاریوں میں مصروف کے سی آر نے جب سیاسی مبصرین اور انتخابی حکمت عملی کے ماہرین سے مشاورت کی تو اس وقت اہم سوال یہی تھا کہ صدر اور نائب صدر کے انتخابات میں ٹی آر ایس کا موقف کیا ہوگا۔ کے سی آر نے تیسرے محاذ کی تشکیل کیلئے عنقریب حیدرآباد یا نئی دہلی میں ہم خیال جماعتوں کے قائدین کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ممبئی میں چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات کے دوران بھی یہ مسئلہ زیر بحث رہا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر نے صدر اور نائب صدر کے انتخابات میں اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کی تجویز پیش کی ہے لیکن کانگریس پارٹی سے اختلافات کے نتیجہ میں یو پی اے کی حلیف جماعتوں کو راضی کرنا کے سی آر کیلئے آسان نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق سیاسی مبصرین نے چیف منسٹر کو بتایا کہ صدر اور نائب صدر کے عہدوں پر این ڈی اے امیدواروں کی کامیابی کیلئے الیکٹورل کالج میں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کو واضح اکثریت حاصل ہے اور اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کی صورت میں کامیابی ممکن نہیں۔ صدر اور نائب صدر کے انتخابات میں مقابلہ کیلئے کانگریس پارٹی کی تائید ضروری ہوگی اور موجودہ حالات میں کے سی آر کانگریس امیدوار کی تائید کے موڈ میں دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے اپوزیشن کو متحد کرنے پر توجہ دیں۔ واضح رہے کہ صدر جمہوریہ کا الیکشن جولائی اور نائب صدر جمہوریہ کا الیکشن اگسٹ میں مقرر ہے۔ جولائی 2017 میں ٹی آر ایس نے رام ناتھ کووند اور اگسٹ 2017 میں وینکیا نائیڈو کی تائید کی تھی۔ چیف منسٹر کے سی آر کو امید ہے کہ 10 مارچ کو 5 ریاستوں کے اسمبلی نتائج کے بعد قومی سطح پر صورتحال تبدیل ہوگی اور صدر و نائب صدر کا الیکشن بی جے پی کیلئے آسان نہیں ہوگا۔ پانچ ریاستوں میں بی جے پی کی شکست کی صورت میں ایک الیکٹورل کالج میں اکثریت کم ہوسکتی ہے ایسے میں اپوزیشن جماعتیں متحدہ امیدوار کے ذریعہ میدان میں اتر سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ادھو ٹھاکرے اور شرد پوار نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ یو پی اور دیگر 4 ریاستوں کے انتخابی نتائج تک انتظار کریں۔ر