چیف سکریٹری کی قیادت میں کمیٹی کا ملازمین کے نمائندوں سے مشاورت کا فیصلہ
حیدرآباد :۔ پی آر سی کمیشن کی میعاد 31 دسمبر کو مکمل ہورہی ہے ۔ جس میں دوبارہ توسیع دینے کے امکانات نہیں ہے ۔ صدر نشین کمیشن سی آر بسوال کی قیادت میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے لیے سفارشات تیار کرلی گئی ہیں ۔ انہیں سفارشات کا چیف منسٹر کی جانب سے تشکیل کردہ سہ رکنی کمیٹی جنوری کے پہلے ہفتہ میں جائزہ لے گی ۔ دوسرے یا تیسرے ہفتہ میں سرکاری ملازمین تنظیموں کے نمائندوں سے تبادلہ خیال کرے گی اور جنوری کے اواخر یا فروری کے پہلے ہفتہ میں چیف منسٹر کو قطعی رپورٹ پیش کرے گی ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے پی آر سی میں 43 فیصد فیٹمنٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا تھا ۔ ذرائع کے بموجب کمیشن نے ملازمین کے تمام مالیاتی امور کا اپنی سفارشات میں احاطہ کیا ہے ۔ سرکاری ملازمین بہتر سفارشات کی امید کررہے ہیں مگر یہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ کمیشن ملک کے معاشی بحران ، ریاستی حکومت کی مالیاتی صورتحال کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے رپورٹ تیار کی ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے تنخواہوں کی بیسک اور ریٹائرڈمنٹ کے موقع پر حاصل ہونے والے وظیفہ اور گھر کے کرائیے کے بھتہ میں بھی تازہ صورتحال کے لحاظ سے ترمیمات کرنے کی اپیل کررہے ہیں ۔ اس پر پی آر سی کمیشن کا ردعمل کیا ہوگا ۔ ملازمین اس کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں ۔ فیٹمنٹ کے تناسب پر متضاد رائے سامنے آرہی ہے ۔ چیف منسٹر کی جانب سے ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد ہی اس مسئلہ پر واضح موقف ظاہر ہونے کی امید کی جارہی ہے ۔ سابق میں پردیپ چندرا کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ۔ تاہم اس وقت چیف منسٹر نے کمیٹی کی سفارشات سے زیادہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا تھا ۔ چیف سکریٹری کی جانب سے دی جانے والی رپورٹ کو کابینہ میں منظوری دی جائے گی ۔ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کرنے کے لیے عمل کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ عمل فروری اور مارچ میں مکمل ہوجائے گا ۔ سرکاری ملازمین کے حد عمر میں اضافہ کرنے کے تعلق سے بھی پی آر سی کمیشن نے اپنی سفارشات تیار کرلی ہے ۔۔