ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد اور سینئر کونسل پرکاش ریڈی نے وقف ایکٹ کی صراحت کی
چار نامزد ارکان کے خلاف مقدمہ کی آج سماعت
حیدرآباد۔ 8 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کے جسٹس اے راج شیکھر ریڈی نے صدرنشین وقف بورڈ کے عہدے پر محمد سلیم کی برقراری کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ درخواست کی سماعت کو مکمل کرلیا اور فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ جسٹس راج شیکھر ریڈی کے اجلاس پر آج سینئر کونسل پرکاش ریڈی اور ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد کے علاوہ وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل ایم اے مجیب نے دلائل پیش کیے۔ جبکہ درخواست گزار کے وکیل نے صدرنشین کے عہدے پر محمد سلیم کی برقراری کو وقف ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا استدلال تھا کہ وقف ایکٹ کے مطابق پارلیمنٹ، اسمبلی اور کونسل کی میعاد ختم ہوتے ہی وقف بورڈ کی رکنیت از خود ختم ہوجاتی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد اور سینئر کونسل پرکاش ریڈی نے اس استدلال کی دلائل کے ساتھ نفی کی اور کہا کہ وقف ایکٹ میں قانون ساز کونسل کی رکنیت کے بارے میں صراحت نہیں کی گئی ہے۔ پرکاش ریڈی نے کہا کہ وقف ایکٹ کی دفعہ 14 میں رکن پارلیمنٹ کے ساتھ رکن اسمبلی کا ذکر کیا گیا ہے۔ قانون میں دفعہ 14 کی جو صراحت کی گئی اس میں رکن قانون ساز کونسل کا کوئی تذکرہ نہیں اور میرے موکل قانون ساز کونسل کے رکن تھے اور رکنیت کی میعاد چوں کہ پانچ سال ہے لہٰذا وہ کونسل کی میعاد کی تکمیل کے باوجود بھی بورڈ میں پانچ سال تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ پرکاش ریڈی نے معزز جج کو دفعہ 14 کی صراحت کے علاوہ سپریم کورٹ کے بعض فیصلوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے وقف ایکٹ کی قانون سازی کے وقت جب کونسل کی صراحت نہیں کی تو پھر عدالت کو کیا اختیار ہے کہ وہ اسمبلی کے ساتھ قانون ساز کونسل کا اضافہ کرے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے کہا کہ اگر صدرنشین کسی بدعنوانی میں ملوث ہوں یا پھر کونسل کی رکنیت سے نااہل قراردیئے جائیں تو ایسی صورت میں ان کی صدارت پر برقراری کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز کونسل کی رکنیت وقف بورڈ میں داخلے کا راستہ ہے اور دفعہ 15 وقف ایکٹ میں اس کی کوئی صراحت نہیں کی گئی۔ لہٰذا پانچ سال کی میعاد کی تکمیل کی جاسکتی ہے۔ وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل ایم اے مجیب نے عدالت کو بتایا کہ ایڈوکیٹ جنرل نے موقف اختیار کیا ہے اس کے ساتھ ہیں۔ جسٹس راج شیکھر ریڈی نے فریقین کی سماعت کے بعد فیصلہ کو محفوظ کردیا۔ اسی دوران جسٹس راج شیکھر ریڈی نے وقف بورڈ کے چار نامزد ارکان کی اہلیت کے بارے میں دائر کردہ درخواست کی سماعت کل تک کے لے ملتوی کردی۔
آج جب یہ معاملہ سماعت کے لیے پیش ہوا تو جسٹس راج شیکھر ریڈی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آیا بورڈ کے نامزد ارکان صوفیہ بیگم، ملک معتصم خان، تفسیر اقبال اور ایم اے وحید کو نوٹس موصول ہوئی ہے۔ وکیل نے بتایا کہ نوٹس جاری کردی گئی۔ تاہم جج نے نوٹس کی وصولی سے متعلق ثبوت پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت کو کل تک کے لیے ملتوی کردیا۔