صدیقی قتل کیس میں شنڈے اور فرنویس استعفیٰ دیں:کانگریس

   

نئی دہلی: کانگریس نے کہا کہ مہاراشٹرا میں سخت حفاظتی انتظامات سے لیس سابق وزیر اور نیشنلسٹ کانگریس اجیت گروپ لیڈر بابا صدیقی کا قتل سنگین معاملہ ہے اور اس معاملے میں چیف منسٹر ایکناتھ شندے اور ڈپٹی چیف منسٹر دیویندر فرنویس کو استعفیٰ دینا چاہئے ۔کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی اور ترجمان راگنی نائک نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بابا صدیقی کو وائی زمرہ کی سیکورٹی حاصل تھی، اس کے باوجود سیکورٹی کی خلاف ورزی کرکے ان کا قتل کیا گیا ہے ، جو انتہائی سنگین ہے ۔انہوں نے کہا کہ بابا صدیقی کو سرعام قتل کیا گیا۔ یہ واقعہ کسی سنسان جگہ پر نہیں بلکہ ممبئی کے باندرہ میں پیش آیا۔ بابا صدیقی تین بار ایم ایل اے اور سابق وزیر رہ چکے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ انہیں وائی زمرہ کی سیکیورٹی حاصل تھی، انہیں قتل کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر وائی لیول سیکیورٹی والے شخص کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے تو عام آدمی کا کیا ہوگا؟کانگریس قائدین نے کہاکہ آج مہاراشٹرا حکومت میں ہر شخص خوف کے سائے میں جی رہا ہے ۔ ڈبل انجن والی حکومت کا دعویٰ کرنے والے وزیر داخلہ خاموش ہیں۔ کل ملک میں وجے دشمی کا تہوار تھا، جو برائی پر اچھائی کی جیت کی علامت ہے ، لیکن مہاراشٹرامیں کل کیا ہوا سب نے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن والی حکومت کی ذمہ داری بھی دگنی ہو جاتی ہے ۔ اگر حکومت کے پاس اس معاملے میں تھوڑی سی بھی اخلاقیات باقی ہے تو شندے ، فرنویس اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔