صرف ٹی آر ایس کی مذمت کافی نہیں، عہدوں سے استعفیٰ دیں

   

مسلم قائدین سے محمد علی شبیر کا مطالبہ، شریعت سے بڑھ کر عہدے نہیں ہوسکتے، مسلم قیادت کی خاموشی معنیٰ خیز
حیدرآباد۔2 اگست (سیاست نیوز) سابق وزیر و کانگریس کے سینئر قائد محمد علی شبیر نے طلاق ثلاثہ بل کے ذریعہ شریعت میں مداخلت میں بی جے پی کو ٹی آر ایس کی مدد پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں ٹی آر ایس کی تائید کرنے والی مسلم سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹی آر ایس کے حق میں مہم چلانے پر مسلمانوں سے معذرت خواہی کریں۔ اس کے علاوہ محمد علی شبیر نے سرکاری عہدوں سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تاکہ برسر اقتدار ٹی آر ایس سے ناراضگی کا اظہار کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت میں مداخلت جیسے حساس مسئلہ پر مسلم سیاسی اور مذہبی قائدین کی بے حسی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت سے بڑھ کر مسلمانوں کے لیے کوئی اور ترجیح نہیں ہوسکتی۔ لیکن افسوس کہ بی جے پی نے ٹی آر ایس کی مدد سے شریعت میں مداخلت کا قانون منظور کرلیا اور ٹی آر ایس کی تائید کرنے والی جماعتیں صرف بیان بازی تک محدود ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح انتخابات میں ٹی آر ایس کی کھل کر تائید کی گئی تھی اسی طرح مذمت کی جانی چاہئے اور ٹی آر ایس قیادت سے ملاقات کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا جائے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ مسلم مذہبی اور سیاسی قائدین کو آگاہ کیا تھا کہ ٹی آر ایس سکیولر پارٹی نہیں ہے جیسا کہ کے سی آر دعوی کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے کے سی آر نے سکیولرازم کا نقاب پہن لیا تھا لیکن مرکزی حکومت کے ہر فیصلے کی تائید کرتے رہے۔ پارلیمنٹ میں حکومت کے ہر بل کی ٹی آر ایس نے تائید کی۔ سابق میں جب طلاق ثلاثہ بل لوک سبھا میں پیش ہوا تھا اس وقت بھی ٹی آر ایس نے ووٹنگ سے غیر حاضر رہ کر بی جے پی کی مدد کی تھی۔ صدر جمہوریہ، نائب صدر کے انتخاب، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے معاملہ میں ٹی آر ایس کو بی جے پی کے ساتھ دیکھا گیا۔ ان تمام تجربات کے باوجود مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین نے اسمبلی اور لوک سبھا میں ٹی آر ایس کی تائید کی جس کے بدلے میں انہیں چند معمولی سرکاری عہدوں کا تحفہ دیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کی منظوری کے بعد ٹی آر ایس کی تائید کرنے والے کئی قائدین نے آج تک مذمتی بیان تک نہیں دیا جبکہ بعض دوسروں نے رسمی طور پر مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عہدوں سے چمٹے رہنے کے بجائے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے مسلم نمائندوں کو عہدوں سے استعفیٰ دینا چاہئے۔ شہر کی تین مسلم تنظیموں کو مختلف سرکاری اداروں میں نمائندگی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کے مقابلہ سرکاری عہدوں کو ترجیح دینا افسوسناک ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے مسلم قائدین بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجاتے ہیں کیوں کہ کے سی آر نے بارہا اعلان کیا تھا کہ وہ بی جے پی سے کوئی مفاہمت نہیں کریں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی بھی فیصلے کی تائید نہیں کی جائے گی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ محض رسمی مخالفت اور مذمت کے بجائے مسلم تنظیموں اور جماعتوں کے قائدین کو شریعت کے تحفظ سے اپنی سنجیدگی کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ ورنہ مسلمان ان پر کبھی دوبارہ اعتبار نہیں کریں گے۔ محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس کی حلیف جماعت مجلس سے سوال کیا کہ طلاق ثلاثہ بل کی منظوری کے بعد وہ کس طرح دوست بن کر برقرار رہے گی۔