صفائی کرمچاری کی ہڑتال ، شہر میں جگہ جگہ کچرے کا انبار

   

ریاست گیر سطح پر صحت مند ماحول کی فراہمی میں حکومت غیر سنجیدہ ، حیدرآبادیوں کی شدید برہمی
حیدرآباد۔13اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر میں کچہرے کی نکاسی کو جو حکومت یقینی بنانے سے قاصر ہے اس حکومت سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ریاست بھر میں صحتمند ماحول کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ حکومت تلنگانہ میں تشکیل دی گئی کابینی ذیلی کمیٹیوں میں شہری صفائی امور کی نگران ذیلی کمیٹی کے صدرنشین کی حیثیت سے مسٹر کے ٹی راما راؤ کو نامزد کیا گیا ہے لیکن ریاست تلنگانہ دارالحکومت حیدرآباد کے علاقوں میں کچہرے کی نکاسی کا جائزہ لیا جائے تو یہ صورتحال واضح ہوجائے گی کہ ریاست کے دیگر شہروں کی حالت کیا ہوگی کیونکہ جب دارالحکومت میں صفائی کا کوئی مناسب نظم نہیں ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ہڑتالی کچہرے کی نکاسی کرنے والوں کی ہڑتال کو ختم کروانے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا ہے اور ان کے بقایاجات کی ادائیگی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے تو ایسے میں حکومت سے کیا توقع کی جائے!شہر حیدرآباد کے بیشتر علاقوں میں کچہرے کے انبار پڑے ہوئے ہیں اور شہریوں کا سڑکوں سے گذرنا محال ہوتا جا رہاہے اور حکومت اور جی ایچ ایم سی عملہ اس بات سے بخوبی واقف ہے لیکن اس کے باوجود اختیار کی جانے والی مجرمانہ خاموشی سے ایسامحسوس ہورہا ہے کہ حکومت عوام کی صحت کی دشمن بنی ہوئی ہے اور شہر حیدرآباد میں صفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہ کرتے ہوئے شہریو ںکی صحت کو متاثر کرنے کا تہیہ کرچکی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں سوچھ تلنگانہ اور شہر میں سوچھ حیدرآباد کی مہم چلانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن شہر کی سڑکوں پر موجود کچہرے کی نکاسی کے سلسلہ میں ٹوئیٹر کے ذریعہ احکامات جاری کرنے والے ریاستی وزیر و صدرنشین شہری صفائی کابینی ذیلی کمیٹی مسٹر کے ٹی راما راؤ کو متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود شہر میں صفائی کے انتظامات کو بہتر نہ بنائے جانے پر شہریوں میں شدید برہمی پائی جاتی ہے کیونکہ شہر حیدرآباد میںصفائی کے انتظامات کی ذمہ داری جی ایچ ایم سی کی ہے اور جی ایچ ایم سی پر بھی تلنگانہ راشٹر سمیتی کا قبضہ ہے اسی لئے کوئی کسی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی حلیف جماعت کی جانب سے شہر کو کوڑے دان میں تبدیل کئے جانے کے باوجود بھی اب تک کوئی آواز اٹھائی جا رہی ہے جبکہ نئے شہر سے زیادہ ابتر حالت پرانے شہر کی ہے اور پرانے شہر کے کئی علاقوں میں کچہرے کی عدم نکاسی کے سبب معصوم بچوں کی صحت متاثر ہورہی ہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور نہ ہی کچہرے کی نکاسی کو بہتر بنانے کے لئے کوئی مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہاہے۔