صفائی کے انتظامات میں چالان کے بعد دوبارہ غلطی پر اداروں کو مہر بند کرنے کی تجویز

   

صاف حیدرآباد ۔ شاندار حیدرآباد کو شرمندہ تعبیر بنانے کا منصوبہ ، کمشنر جی ایچ ایم سی کی عہدیداروں کو ہدایت
حیدرآباد۔12جولائی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں صفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبادکی جانب سے کی جانے والی سخت کاروائیوں کے سبب رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بھی عہدیدار اجاگر کریں اور شہر حیدرآباد کے عوام میں شعور بیدا رکرتے ہوئے انہیں شہر حیدرآباد کی سڑکوں اور محلوں کو صاف اور شاندار بنانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات سے واقف کروائیں۔ جی ایچ ایم سی کمشنر مسٹر دانا کشور نے اپنے ما تحت عہدیداروں کے ہمراہ منعقدہ جائزہ اجلاس کے دوران یہ ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں پر بھاری چالانات کئے جا رہے ہیں اور اگر دوبارہ وہ اسی طرح کی حرکت کے مرتکب پائے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ان تجارتی مراکز کو مہر بند کرنے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ مسٹر دانا کشور نے بتایا کہ شہریوں میں شعور اجاگر کرتے ہوئے ’صاف حیدرآباد ‘ شاندار حیدرآباد‘ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے اسی لئے صفائی عملہ کو صفائی کی اہمیت کے متعلق شہریوں کو واقف کروانے کی ضرورت ہے۔ مسٹر دانا کشور نے کہا کہ شہر حیدرآباد کو مثالی شہربنانے کیلئے ضروری ہے کہ شہر کی سڑکوں کو صاف ستھرا رکھنے کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے اقدامات کئے جائیں اور جہاں کہیں جگہ میسر ہو شجرکاری کرتے ہوئے آلودگی سے پاک ماحول کی تیاری کو ممکن بنایا جائے۔ جائزہ اجلاس کے دوران انہو ںنے بتایا کہ شہر کے کئی علاقو ں میں جہاں کچہرے کی نکاسی کے باوجود کچہرا ڈالا جارہاہے وہاں کچہرا ڈالنے والوں پر نگاہ رکھی جائے اور جو لوگ سڑک پرکچہرا ڈالنے کے مرتکب بن رہے ہیں ان پر انفرادی چالانات بھی کرنے سے گریز نہ کیا جائے۔ جی ایچ ایم سی نے تاحال صفائی نہ رکھنے اور کچہرا ڈالے جانے پر جو چالانات کئے ہیں وہ 50لاکھ سے تجاوز کرچکے ہیں اور گذشتہ یوم کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اب تک جی ایچ ایم سی نے 51لاکھ 88ہزار سے زائد رقم وصول کی ہے ۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ اب تک صرف شہر کے تجارتی اداروں‘ ریستوراں‘ ہوٹل اور ٹفن سنٹر کے علاوہ گوشت کی دکانوں کو یہ چالان کئے گئے ہیں اورمستقبل میں تمام تجارتی اداروں کے کچہرے کی نکاسی کے سلسلہ میں تفصیلات سے آگہی حاصل کرتے ہوئے ریکارڈ تیار کیا جائے گا اور جن تجارتی اداروں کے کچہرے کی نکاسی کا مؤثر انتظام نہیں ہے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی اور بھاری چالانات کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔