20 لاکھ کروڑ کا پیاکیج محض واہمہ، نئی صنعتوں میں 2 لاکھ روزگار کے مواقع
حیدرآباد۔/5 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے صنعتی ترقی کے معاملہ میں مرکزی حکومت کے رویہ پر سخت تنقید کی۔ کورونا وباء کے سبب صنعتوں پر منفی اثرات سے متعلق قانون ساز کونسل میں پوچھے گئے سوال پر کے ٹی آر نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے دوران صنعتی ترقی کیلئے مرکز نے 20 لاکھ کروڑ کے پیاکیج کا اعلان کیا تھا لیکن یہ پیاکیج عملی شکل اختیار کرنے سے محروم رہا۔ مرکز کے اعلان کردہ پیاکیج سے تلنگانہ کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک کی کسی بھی ریاست کو مرکزی پیاکیج سے حصہ داری نہیں ملی۔ کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں صنعتوں کا قیام اور سرمایہ کاری میں اضافہ دراصل حکومت کی موافق صنعتی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ حکومت کی جانب سے صنعتوں کے قیام کیلئے جو سہولتیں اور مراعات دی جارہی ہیں ان سے متاثر ہوکر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے تلنگانہ کا رخ کیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کورونا وباء کے باوجود تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے رجحان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ 2020-21 میں ریاست میں 3445 صنعتوں کیلئے سرمایہ کاری کو منظوری حاصل ہوئی ہے۔ 2021-22 میں ابھی تک 1777 نئی صنعتوں کے قیام کی تجاویز حکومت کو پیش کی گئی ہیں۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ کورونا وباء کے آغاز کے بعد سے نئی صنعتوں کے قیام اور سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رہنے سے تقریباً 206911 افراد کو بالواسطہ طور پر روزگار کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2020-21 میں 1939 نئے یونٹس قائم کئے گئے جبکہ 2021-22 میں 102 یونٹس میں پیداوار کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے باوجود حکومت نئی صنعتوں کے ذریعہ روزگار کی فراہمی کو یقینی بنارہی ہے۔ر