الیکشن کمیشن پاکستان کا اعلان‘ کسی بھی صوبائی حلقہ میں انتخابات پر 5 تا 7 کروڑ کے مصارف کا تخمینہ
اسلام آباد: پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کی صورت میں قومی نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن دوبارہ ہوگا۔واضح رہے کہ 3 نومبر کو وزیر آباد میں کنٹینر پر حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے کے بعد پہلی بار ہفتہ کو راولپنڈی میں لانگ مارچ کے شرکا سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اپنے سیاسی حلیفوں اور مخالفین کو یکساں طور پر ’سرپرائز‘ دیتے ہوئے ’موجودہ کرپٹ سیاسی نظام‘ سے علیحدگی اختیار کرنے کے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اور پنجاب کی اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔عمران خاں کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے اہم بیان سامنے آگیا ہے ۔آج ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے پر قومی نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن دوبارہ ہوگا، جتنے بھی اراکین مستعفی ہوں گے، ان کی نشستوں پر 60 روز میں ضمنی انتخابات کرا دیں گے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی صوبائی حلقے میں انتخابات پر تقریباً 5 سے 7 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے دوبارہ انتخابات پر کم از کم ساڑھے 22 ارب روپے کا خرچ آئے گا۔خیال رہے کہ عمران خان کی جانب سے اسمبلیوں سے نکلنے کے بیان نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، پارٹی چیئرمین کے اس بیان کے بعد فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ’تحریک انصاف کے استعفوں کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی 123 نشستوں، پنجاب اسمبلی کی 297 نشستوں، خیبر پختونخواہ کی 115 نشستوں، سندہ اسمبلی کی 26 اور بلوچستان کی 2 نشستوں یعنی کل 563 نشستوں پر عام انتخابات ہوں گے۔کل ایک بیان میں پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں سے جب استعفے دیں گے تو وزیر اعظم شہباز شریف کی 27 کلومیٹر کی حکومت 27 گھنٹے بھی نہیں چل سکے گی۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے عمران خان کے اسمبلیوں سے نکلنے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اعلان اعتراف شکست ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ 20 فیصد لوگ ریکوزیشن جمع کرائیں تو اسمبلی تحلیل نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا تھا کہ ابھی تو انہوں نے اجلاس کرنا ہے اور پارلیمنٹیرینز سے ملاقاتیں کرنی ہیں تو کیا اپوزیشن بیٹھی رہے گی۔ادھر مریم اورنگزیب نے عمران خان کے اس بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن وقت سے پہلے کیوں کرائیں؟ عمران خان کا اقتدار ختم ہو گیا ہے اس لیے انتخابات کی بات کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی اکثریت ہے تاہم 27 جولائی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے اس وقت کے اسپیکر نئے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے تھے۔عملی طور پر پی ٹی آئی کی پنجاب میں صوبائی حکومت ہے جہاں ان کے وزرا اور مشیر موجود ہیں جبکہ مسلم لیگ (ق) کے اراکین کی تعداد صرف 10 ہے۔پی ٹی آئی کی پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 9 سال سے زائد عرصے سے حکومت ہے اور پی ٹی آئی کے محمود خان 2018 میں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔