تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سمیت سینئر کمانڈرز اور سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کیے بغیر غزہ فضائی حملے میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹوں کو نشانہ بنایا۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینئر اسرائیلی حکام کے حوالہ دیتے ہوئے ’ولا‘ نیوز ایجنسی نے بتایا کہ نیتن یاہو نہ ہی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کو اس حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔اسرائیلی میڈیا نے کہا کہ حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں (ہازم، محمد اور عامر) کو فائٹر کے طور پر نشانہ بنایا گیا تھا نہ کہ اس لیے کہ وہ حماس کے رہنما کے بیٹے تھے۔اسرائیلی میڈیا رپورٹ پر وزیراعظم نیتن یاہو یا اسرائیلی فوج کی طرف سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
اسرائیل پر متوقع حملہ؟ امریکی سینٹ کا میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کی توقع کی جا رہی ہے، ایسے میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر کی فضا میں ایک بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق میزائل یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے سے داغا گیا تھا۔