ض10اضلاع اور قدیم زونس کی بنیاد پر سرکاری جائیدادوں پر تقررات

   


نئے اضلاع کی صورت میں دشواریاں، 50ہزار جائیدادوں پر تقررات کی تیاریاں
حیدرآباد۔ غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں قدیم طریقہ کار پر واپسی کے بعد حکومت نے مختلف محکمہ جات میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے سابقہ اضلاع اور زونس کی بنیاد پر کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے نئے اضلاع کے حق میں گزٹ نوٹفیکیشن کی اجرائی کے باوجود حکومت قدیم اضلاع کی طرز پر تقررات کا منصوبہ رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 50 ہزار مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں چیف سکریٹری کو اقدامات کی ہدایت دی۔ حکومت کا احساس ہے کہ نئے اضلاع اور نئے زونس جو 2014 کے بعد قائم کئے گئے ان کی بنیاد پر تقررات کا عمل جلد مکمل کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ نئے اضلاع اور زونس کے معاملہ میں کئی تنازعات ہیں۔ عہدیداروں نے تجویز پیش کی ہے کہ 10 سابقہ اضلاع اور 2 زونس جو متحدہ آندھرا پردیش میں موجود تھے ان کی بنیاد پر مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں۔ 2018 میں کے سی آر حکومت نے نیا زونل سسٹم متعارف کیا تھا اور مقامی افراد کو تقررات میں ترجیح دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے نئے زونل سسٹم کو منظوری دی اور صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن مئی 2018 میں جاری کرتے ہوئے 31 نئے اضلاع، 7 زون اور 2 ملٹی زونس کی منظوری دی گئی تھی تاہم 2019 میں حکومت نے مزید 2 اضلاع ملگ اور نارائن پیٹ قائم کئے۔ حکومت کی ان ترمیمات کو وزارت داخلہ و صدر جمہوریہ کی منظوری باقی ہے جس کے نتیجہ میں تقررات کے عمل میں رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ عہدیداروں نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ مرکز کی منظوری کا انتظار کئے بغیر پرانے اضلاع اور زونس کی بنیاد پر تقررات کئے جائیں تاکہ کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہ رہے۔