چیف منسٹر افتتاحی پروگرام میں شرکت کریں گے‘ ریاستی وزیر پونم پربھاکر کی میڈیا سے بات چیت
سدی پیٹ۔ 15؍مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی جلد ہی سدی پیٹ ضلع کے ننگونور منڈل کے نرمیٹا گاؤں میں 300 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ آئل فیڈ کے آئل پام فیکٹری کا افتتاح کرنے والے ہیں۔ اس فیکٹری کا معائنہ ریاست کے وزیر زراعت، مارکیٹنگ و کوآپریشن تممل ناگیشور راؤ، ریاست کے وزیر ٹرانسپورٹ و بی سی ویلفیئر پونم پربھاکر، آئل فیڈ چیئرمین جنگا راگھوا ریڈی، ضلع کلکٹر کے۔ ہیماوتی، آئل فیڈ ایم ڈی یاسمین باشا، سدی پیٹ کمشنر آف پولیس سادھنا رشمی پیرومال اور دیگر نے کیا۔ آئل پام فیکٹری کے معائنہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر تممل ناگیشور راؤ نے کہا کہ ملک میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ نرمیٹا میں تعمیر کردہ آئل پام فیکٹری کا افتتاح اسی ماہ کی 22 تاریخ کو ریاست کے وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں کروانے کے لئے ان سے وقت طلب کیا گیا ہے۔ اسی دن 40 کروڑ روپے کی لاگت سے آئل ریفائنری یونٹ کی تعمیر کے لئے بھی سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کا موسم آئل پام کی کاشت کے لئے بہت موزوں ہے اور ریاست میں 20 لاکھ ایکڑ اور ملک بھر میں 70 لاکھ ایکڑ میں اس فصل کی کاشت کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھانے کے تیل کے لئے ہر سال ہمارا ملک تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ کر کے ملیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے تیل درآمد کرتا ہے۔ تلنگانہ کے وسطی مقام پر واقع سدی پیٹ میں تعمیر کردہ آئل پام فیکٹری ریاست کے تمام علاقوں کے آئل پام کسانوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ فیکٹری کے افتتاح کے ساتھ ساتھ 20، 21 اور 22 تاریخ کو فیکٹری کے احاطہ میں رائتو میلہ منعقد کیا جائے گا جس میں زرعی آلات کی نمائش کی جائے گی۔ ضلع کلکٹر کے ہیماوتی نے کہا کہ عام طور پر کسان دھان کی کاشت کے عادی ہو چکے ہیں اور اگر فصل کی تبدیلی نہیں کی گئی تو مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئل پام فیکٹری کی تعمیر حکومت کا ایک بہترین اقدام ہے اور منافع بخش زراعت کے لئے کسانوں کو لازمی طور پر آئل پام کی کاشت کی طرف آنا چاہئے۔اس پروگرام میں سدی پیٹ آر ڈی او سدانندم، ضلع زرعی افسر سوروپارانی، آئل فیڈ کے افسران سدھاکر ریڈی، سری کانت اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔