منتخب نمائندوں کو عوامی مسائل سے عدم دلچسپی کا اظہار، کلکٹر کی شرکت اور مختلف امور پر عہدیداروں کو توجہ دہانی
میدک۔ ضلع پریشد میدک کے جنرل باڈی سہ ماہی اجلاس کا کلکٹریٹ میٹنگ ہال میں چیرپرسن ضلع پریشد ہیمالتا گوڑ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ اس اجلاس میں ضلع کے 20 منڈلس سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی، پدما دیویندر ریڈی، مدن ریڈی، کرانتی کرن، رگھونندن راؤ کے علاوہ ارکان ضلع پریشد نصف سے زائد اور صدرنشین منڈل پریشد کے بھی نصف زائد منتخب عہدیدار غیر حاضر رہے۔ اس سے صاف ظاہر ہیکہ منتخب عہدیداروں کو عوامی مسائل سے واقفیت اور اس کے حل میں کتنی دلچسپی ہے۔ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی ضلع کلکٹر میدک مسٹر ایس ہریش نے کسانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دھان کے بجائے دال، مٹر کی فصلوں کو بھی اہمیت دیں۔ ضلع کلکٹر نے منتخب عوامی نمائندوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دیہاتوں میں عوام کو کووڈ ویکسن لینے کے لئے شعور بیدار کریں۔ مسٹر ہریش نے کہا کہ امسال ضلع میں ڈینگو کے 26 کیسیس، 4 ملیریا کے کیس اور 2 چکن پاکس کے کیس آئے ہیں۔ جس کا مناسب علاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار نے امدادی وظائف کی تاریخ میں اضافہ کرتے ہوئے 30 اکتوبر تک مہلت دی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک درخواستوں کی عاجلانہ طور پر تکمیل کریں اور ڈبل بیڈ رومس مکانات کی تعمیر کو جنگی خطوط پر کریں۔ انہوں نے کہا کہ 131 معذوروں میں بیاٹری کے ٹرائی سائیکلیں تقسیم کی گئی ہیں۔ رکن زیڈ پی ٹی سی نارسنگما نے کہا کہ پرائمری ہیلت مرکز کی عمارت بوسیدہ ہوچکی ہے جس کو دوسری عمارت میں شفٹ کرنا ضروری ہے اور کہا کہ گاؤں میں برقی پولس کی تنصیب کے لئے ٹرانسکو عہدیدار رشوت طلب کررہے ہیں۔ اس اجلاس میں ایڈیشنل کلکٹرس پریتما سنگھ اور جی رمیش ضلع پریشد چیف آفیسر مسٹر سیلیش ، ضلع مہتمم تعلیمات رمیش کمار، ڈسٹرکٹ پنچایت آفیسر مسٹر ترون، رورل ڈیولپمنٹ آفیسر سرینواس کے علاوہ ارکان ضلع پریشد، صدرنشین منڈل مرتبہ حویلی گھن پور ایس نارائن ریڈی، ڈسٹرکٹ اگریکلچرل آفیسر پرشورام نائک، ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر وینکٹیشور راؤ کے علاوہ دیگر موجود تھے۔
