موجودہ گاندھی ڈپلیکٹ گاندھی ، متاثرین سے ملاقات کے بعد کے ٹی آر کی برہمی
حیدرآباد ۔ 26 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے آج ضلع کھمم کے ویلگو میٹلا کا دورہ کرتے ہوئے بھودان اراضی کے متاثرین سے ملاقات کی ۔ بی آر ایس پارٹی ان کے ساتھ ہونے کا یقین دلایا ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دو سال بعد ریاست میں بی آر ایس کی حکومت قائم ہوگی ۔ اسی اراضی پر متاثرین کو مکانات تعمیر کر کے دئیے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ بی آر ایس پارٹی بجٹ سیشن کے دوران اس مسئلہ کو اسمبلی اور کونسل میں اٹھاتے ہوئے غیر قانونی انہدامی کارروائی کے بارے میں حکومت سے سوال کرے گی ۔ کے ٹی آر نے استفسار کیا کہ کیا اندراماں حکمرانی کا مطلب غریب عوام کے مکانات انہدام کرنا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت نے دشمن ملک پر حملہ کی طرح 4000 پولیس ملازمین کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے غریبوں کے مکانات کو منہدم کردینے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ اس اراضی پر متحدہ ضلع کھمم کی نمائندگی کرنے والے تینوں وزراء بھٹی وکرامارک ، پی سرینواس ریڈی اور ناگیشور راؤ کی نظریں پڑی ہیں ۔ جس کے لیے غریب عوام کو گھروں سے محروم کیا گیا ہے ۔ جس کی بی آر ایس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ کے ٹی آر نے تینوں وزراء کو چیلنج کیا کہ حکومت نے کچھ غلط نہیں کیا ہے تو وہ یہاں آئے اور متاثرین سے ملاقات کریں ۔ اگر کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے تو آر ڈی او کا تبادلہ کیوں کیا گیا ۔ حکومت اس کی وضاحت کرے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک شخص کی قربانی دے کر فرار ہونے کی کوشش کررہی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ انہدامی کارروائی سے قبل متاثرین کو نوٹس بھی نہیں دی گئی ۔ تینوں وزراء اس اراضی کو ہڑپنا چاہتے ہیں اس لیے غریبوں کو سڑک پر بے یار و مددگار پھینک دیا ہے ۔ تینوں وزراء عوام اور عہدیداروں کے درمیان دراڑ پیدا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ زمین کے حقوق قانونی ہیں صرف کانگریس قائدین کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے ۔ ملک میں ایک زمانے میں اصلی گاندھی تھے اب ڈپلیکٹ گاندھی ہے ۔۔ 2