2 لوک سبھا 5 اسمبلی حلقوں میں ٹی آر ایس کی کامیابی ، دوباک میں معمولی اکثریت سے بی جے پی کامیاب
حیدرآباد :۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ریاست میں گذشتہ 7 سال کے دوران جتنے بھی انتخابات منعقد ہوئے ہیں ان میں ٹی آر ایس پارٹی نے شاندار مظاہرہ کیا ہے ۔ 6 اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس نے 5 اسمبلی حلقوں میں 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے ۔ صرف دوباک اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کو معمولی ووٹوں کی اکثریت سے شکست ہوئی ہے ۔ سال 2016 میں کانگریس کی نمائندگی کرنے والے دو ارکان اسمبلی کے انتقال کے بعد اسمبلی حلقہ نارائن کھیڑ اور اسمبلی حلقہ پالیر میں منعقدہ دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات پر حکمران ٹی آر ایس کے امیدواروں نے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ۔ نلگنڈہ لوک سبھا کی نشست سے کامیابی کے بعد صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے اسمبلی رکنیت سے دستبرداری اختیار کی ۔ ان کی نمائندگی والے اسمبلی حلقہ حضور نگر میں ضمنی انتخابات منعقد ہوئے 2019 میں منعقدہ اس ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کے امیدوار نے 56 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی کی شریک حیات کو شکست دی ۔ اس کے علاوہ لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں بھی ٹی آر ایس نے اپنی کامیابی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ 2014 میں میدک لوک سبھا اور 2015 میں لوک سبھا ورنگل کے ضمنی انتخابات میں بھی ٹی آر ایس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔ جب کہ سال 2020 کے دوران دوباک اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی نے صرف 1079 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔۔