طالبان اقتدار کے بعد سکیوریٹی ایجنسیوں کی غزوہ ہند اور قیام خلافت پر توجہ

   

بنگلورو کی عدالت میں این آئی اے کی چارج شیٹ میں مختلف دعوے ۔ جہاد کے لیے نوجوانوں کی بھرتی کا ادعا
حیدرآباد۔14 ستمبر(سیاست نیوز) افغانستان میں طالبان کے اقتدار نے ملک کی سیکیوریٹی ایجنسیوں کو دوبارہ غزوۂ ہند اور ہندستان میں قیام خلافت کے نظریہ پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے اور این آئی اے کی جانب سے بنگلورو کی عدالت میں جاری ایک مقدمہ میں داخل کی گئی اضافی چارج شیٹ میں این آئی اے کی ذہنیت آشکار ہوچکی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں بنگال‘ مہاراشٹرا‘ گجرات کے علاوہ دیگر مقامات پر جہاد کیلئے نوجوانوں کو بھرتی کیا جا رہاہے اور داعش و افغانستان کے طرز پر قیام خلافت کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ این آئی کی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ داعش سے متاثرہ نوجوانوں کی گجرات‘ مغربی بنگال ‘ اور مہاراشٹرا میں نشاندہی کی گئی ہے جو قیام خلافت کی سازش میں ملوث ہیں۔ چارج شیٹ میں داعش کے مبینہ دہشت گرد شہاب الدین کو سرغنہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ہندستان میں جہاد کیلئے اسلحہ کے حصول میں کامیاب ہونے لگے ہیں۔ افغانستان کی صورتحال پر این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں موجود 25 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی جو کہ آن لائن نوجوانوں کی ذہن سازی اور بھرتی کر رہے ہیں۔ سال گذشتہ محبوب پاشاہ اور 16 دیگر کے خلاف درج مقدمہ میں داخل کی گئی سپلیمنٹری چارج شیٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ خواجہ محی الدین کے ساتھ مل کر ملزمین تمل ناڈو میں دہشت گردانہ کاروائیوں اور ہندو مذہبی قائدین کے قتل کی سازشوں میں ملوث ہیں اور اس مقصد کیلئے یہ لوگ نوجوانوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔ چارج شیٹ میں الہند ماڈیول کا تذکرہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اس گروپ نے اپنے مرکز کیلئے بنگلورو کا انتخاب 2019 میں کیا ہے۔این آئی اے دعوے کے مطابق گجرات میں الہند کی جمبوسر‘ بنگال میں بردوان اور مہاراشٹرا میں رتناگیری میں موجودگی کے دعوے کئے گئے ہیں۔ این آئی اے کے مطابق اس گروپ نے نکسلائٹس کی طرح گھنے جنگلاتی علاقوں سے سرگرمیاں انجام دینے کا منصوبہ تیار کیا ۔ M