طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کوویڈ 19 کے خطرے سے اپنی صحت کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہوشیار اور چوکس رہیں یہی محفوظ رہنے کی ضمانت ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں وبائی امراض کے خلاف اپنی کاوشوں کو کم نہیں کرنا چاہئے ۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، ڈین بہبودیِ طلبہ (ڈی ایس ڈبلیو) نے کویڈ 19 وبائ کے دوران مناسب ذہنی اور جسمانی صحت اور بہتر رہنمائی کو یقینی بنانے کے لئے مشاورتی لیکچرز کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے ۔ کویڈ 19 مانیٹرنگ کمیٹی کی سفارشات پر صورتحال کے بارے میں شعور بیدار کرنے اور طلبہ ، تدریسی و غیر تدریسی عملے کو موجودہ حالات میں ہورہی تکلیف کے سدباب کے لیے یکم اور 2 جولائی 2021 کو آن لائن لیکچرس کا اہتمام کیا گیا۔پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ ، وائس چانسلر انچارج نے اپنے افتتاحی خطاب میں کویڈ 19 کے متعلق بنیادی معلومات حاصل کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور سب کو ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے اس کے مناسب علاج سے متعلق جانکاری رکھنے کی ضرورت پر بھی توجہ دلائی۔ پروفیسر رحمت اللہ نے وبائی مرض کی تیسری لہر کے ناخوشگوار امکان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ریسورس پرسن ، ڈاکٹر اخلاق احمد چودھری ، ایم ڈی ، ڈی پی ایم ، سائکیاٹری ، سینئر کنسلٹنٹ آف سائکیاٹری ، بھارت ہاسپٹل ، نواں شہر ، پنجاب نے ’’کویڈ ویکسین – حفاظتی تدابیر اور غلط فہمیاں‘‘پر آن لائن لیکچر دیتے ہوئے بیماری کی علامات اور اسباب کی وضاحت کی۔ ڈاکٹر چودھری نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی تحقیق نے کووڈ ویکسین کے تعلق سے سازش کے نظریہ مکمل طور پر مسترد کردیا ہے ۔ انہوں نے ویکسین سے متعلق بعض غلط فہمیوں کا منطقی جواب پیش کیا اور اس تعلق سے احتیاط برتنے کی صلاح دی۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے ہر ایک کو ویکسین لینے کا مشورہ دیا۔پروفیسر سید علیم اشرف جائسی ، صدر نشین، کویڈ 19 مانیٹرنگ کمیٹی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے آپ کو توہمات سے بچا کر حقیقت کو سمجھتے ہوئے ویکسین لینا چاہیے ۔ ہمیں افواہوں پر توجہ نہیں دینی چاہیے ۔دوسرے دن مہمانِ خصوصی ، ڈاکٹر منہاج ظفر نصیرآبادی ، ماہر نفسیات ، حیدرآباد نے ’’دماغی صحت کے امور اور نمٹنے کی حکمت عملی‘‘ کے موضوع پر آن لائن خطاب کیا۔