طلاق حسن کو غیر قانونی اعلان کرنے کی اٹھی مانگ کے بعد سپریم کورٹ نے کیا اہم تبصرہ

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں طلاق حسن کی روایت کو ختم کرنے کیلئے دو مسلم خواتین نے عرضی داخل کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ روایت خواتین کے ساتھ انصاف نہیں کرتی ہے ، اس لئے طلاق بدعت ایک ساتھ تین طلاق کہنے کی روایت کی طرح طلاق احسن کو بھی غیر قانونی اعلان کیا جائے ۔ غور طلب ہے کہ طلاق بدعت کے غیر قانونی اعلان ہونے کے بعد سے طلاق احسن ہی مسلمانوں میں طلاق کا ایک طریقہ ہے ۔اس روایت کے مطابق کوئی بھی مسلمان اگر اپنی اہلیہ کو طلاق دینا چاہتا ہے تو اس کو ایک ایک مہینے کے وقفہ میں تین مرتبہ طلاق کہنا ہوتا ہے ۔ یعنی طلاق کا عمل تین مہینے میں پورا ہوتا ہے ۔ اس درمیان شوہر اور بیوی کے درمیان سمجھوتے کی گنجائش رہتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس عرضی پرسماعت کے دوران منگل کو تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلی نظر میں یہ روایت خاتون مخالف نہیں لگتی ہے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ خواتین کو بھی اسلام میں خلع یعنی طلاق لینے کا حق ہے ۔ اگر دو لوگ ساتھ نہیں رہ سکتے ، تو ان کو طلاق لے لینا چاہئے اور عدالتیں اس بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں ۔ عدالت عظمی نے آگے کہا کہ معاملہ صرف مہر کی رقم کا ہے۔ مہر وہ پیسہ ہوتا ہے جو شوہر اپنی بیوی کو طلاق کے وقت دیتا ہے ۔