طلباء و نوجوانوں کا لندن میں اعلیٰ تعلیم کا رجحان

   

ٹائیر 4 ویزوں میں زیادہ دلچسپی، ہندوستانی طلبہ کیلئے دوسراپسندیدہ ملک
حیدرآباد۔/17نومبر، ( سیاست نیوز) بیرون ممالک اعلیٰ تعلیم کا خواب دیکھنے والوں کی کمی نہیں بلکہ اکثر ایسے طلبہ جو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے پسندیدہ مقام برطانیہ بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بیرون ممالک کے طلبہ میں ہندوستانی طلبہ کا دوسرا مقام ہے۔ کرونا کے بعد حالات میں تبدیلی سے اب اس رجحان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ سال 2020 میں 2 لاکھ 60 ہزار ہندوستانی طلبہ نے اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونی ممالک کا رُخ کیا تھا۔ جاریہ سال 72 ہزار طلبہ نے بیرون ممالک یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرلیا ہے۔ بیرونی ممالک میں سب سے زیادہ تعداد برطانیہ کا رُخ کررہی ہے ۔ برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے دلچسپی کی دو اہم وجوہات ہیں ایک تو یہاں عالمی سطح کی معیاری یونیورسٹیز موجود ہیں اور دوسری اہم وجہ پی جی کورس کی میعاد برطانیہ میں ایک سال ہوتی ہے جو ہندوستان کے دو سالہ پی جی کورس کے مساوی ہے۔ برطانیہ میں آکسفورڈ ، کیمبرج جیسی عالمی سطح کی قدیم یونیورسٹیز کے علاوہ امپیریل کالج آف لندن یونیورسٹی کالج آف لندن، دی یونیورسٹی آف ایڈنبرگ ، دی یونیورسٹی آف مانچسٹر ، کنگس کالج لندن، دی لندن اسکولس آف اکنامکس اینڈ پولٹیکل سائینس ( ایل ایس سی) دی یونیورسٹی آف وارویک یونیورسٹی آف برسٹل جیسے یونیورسٹیز پائی جاتی ہیں۔ جہاں تک ویزا کے حصول کا سوال ہے تازہ عمل میں لائے گئے گریجویٹ روٹ ویزا کے ساتھ موجود چند اقسام کے ویزا برطانیہ میں دستیاب ہیں۔ جنہیں ایک تا 6 ٹائر زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بیرونی ممالک طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لئے دیئے جانے والے ٹائر 4 ویزا دیا جاتا ہے جبکہ یو کے میں ملازمت کے لئے ٹائر 2 ویزا دیا جاتا ہے۔ ان دنوں ٹائر 4 ویزا پر بہت زیادہ دلچسپی دکھائی جاتی ہے اور ہندوستان سے بیرونی ممالک اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلبہ اس ٹائبر 4 ویزا کے لئے درخواست کرتے ہیں ۔ ع