طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے ٹیچرس کے تقررات کا مطالبہ

   

گورنمنٹ اسکولس میں طلبہ کی بہتات سے اساتذہ دباؤ کا شکار

حیدرآباد ۔ 12 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : گورنمنٹ اسکولس کے ٹیچرس نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ گورنمنٹ اسکولس میں طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے ٹیچرس کے تقررات کئے جائیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کورونا وبا کے باعث ان پر بوجھ بڑھ گیا ہے کیوں کہ گذشتہ تعلیمی سال میں تقریبا 2.5 لاکھ طلبہ نے خانگی اسکولس سے نکل کر گورنمنٹ اسکولس میں داخلہ حاصل کیا ہے ۔ اس طرح ان اسکولس میں طلبہ کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے اس لیے حکومت کو گورنمنٹ اسکولس میں طلبہ کی موجودہ تعداد کی بنیاد پر ٹیچرس کے تقررات کرنے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 وبا کے دوران مالی مسائل کے باعث خانگی اسکولس کے کئی طلبہ گورنمنٹ اسکولس میں داخلہ حاصل کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ ایم رویندر ، نائب صدر ، تلنگانہ پروگریسیو ٹیچرس فیڈریشن نے کہا کہ طلبہ کی تعداد میں اضافہ کے باعث ٹیچرس شدید دباؤ میں ہیں اور تعلیم کا معیار پیچھے ہوگیا ہے ۔ قدرے راحت فراہم کرنے کے لیے حکومت کو گورنمنٹ اسکولس میں طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے ٹیچرس کی درکار جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ڈسٹرکٹ سلیکشن کمیٹی کے ذریعہ پر کرنا چاہئے ۔ گورنمنٹ ٹیچرس نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں جائیدادوں کا اعلان کرتے وقت سی آر بسوال کمیٹی کی پے رویژن کمیشن رپورٹ کو ملحوظ رکھنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جائیدادوں کو پر کرنے کے چیف منسٹر کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ریاستی حکومت کو بسوال کمیٹی کی رپورٹ کو ملحوظ رکھنا چاہئے اور اس کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کی گئی تمام جائیدادوں پر تقررات کے لیے اعلان کرنا چاہئے ۔ ٹی پی ٹی ایف ممبرس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کے جی بی ویز ، ماڈل اسکولس اور ریسیڈنشیل اسکولس میں کنٹراکٹ ، گھنٹہ کی اساس پر برسرکار ٹیچرس ، آوٹ سورسنگ اسٹاف کی خدمات کو ریگولر بنایا جائے ۔۔