پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ایک جانب تو حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیتی ہے ،دوسری جانب اس نے اقلیتی طلبہ طالبات کے وظائف کو بند کرنے کا اعلان کر تعلیم کی راہ میں رخنہ پیدا کر دیا ،جو رائٹ ٹو ایجوکیشن کے منافی ہے ۔حکومت فورا اقلیتی طلبہ طالبات کے مفاد میں وظائف کو بحال کر ،ان کی تعلیم کی راہ کو ہموار بنائیں ۔انہوں نے حکومت کے ذریعہ اقلیتی طلبہ کے وظائف بند کرنے کے اعلان پر ردعمل میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ غریب و پسمادہ طبقے کے طلبہ طالبات کو وظائف سے ایک امید ہوتی ہے ،کہ کھاتہ میں پیسہ آنے سے ان کے کچھ مسائل کا تصفیہ ہو جاتا تھا ۔،مگر حکومت نے ایک منظم منصوبہ کے تحت اقلیتی طلبہ طالبات کے پری میٹرک تعلیم کے لئے وظائف کو بند کر ان کی تعلیم کی راہ میں رخنہ پیدا کر دیا ہے ۔وظائف بند ہونے سے جہاں لاکھوں طلبہ متاثر ہوں گے ،وہیں ان کے سامنے آگے کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مزید دشواری ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں مرکزی حکومت کے اقلیتی وزارت نے اچانک ایک سرکولر جاری کر پری میٹرک تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے وظائف بند کرنے کا اعلان کر طلبہ کو حیرت زدہ کر دیا ،اور جواز پیش کیا کہ چونکہ رائٹ ٹو ایجوکیشن کے تحت سبھی طلبہ کو مفت تعلیم دی جارہی ہے ،اس لئے وظائف کی ضرورت نہیں ہے ،جبکہ وظائف سے طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ،اور ان کے تعلیمی اخراجات میں بھی مدد ملتی ہے ۔ ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ وظائف بند ہونے کے سبب خصوصی طور سے مسلم طلبہ کو تعلیمی میدان میں دشواری پیش آئے گی ،جو مالی طور پر انتہائی کمزور ہیں ۔رائٹ ٹو ایجوکیشن کے تحت طلبہ کے روشن مستقبل کے لئے طلبہ کے بند وظائف کو بحال کر ،ان کی تعلیمی راہ کو ہموار کیا جائے ،جس سے کوئی تعلیم سے محروم نہ رہ سکے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مفاد میں فورا وظائف بحال کیا جائے ۔