طوفان ’یاس‘ ساحل سے ٹکرایا ۔ اڈیشہ کے بعد مغربی بنگال میں بھی تباہی

,

   

بنگال میں ایک کروڑ افراد متاثر ، 3 لاکھ مکانات کو نقصان ، سندربن میں سیلاب ، پشتے ٹوٹنے کے سبب حالات بے قابو

کولکاتا : خلیج بنگال میں برپا طوفان ’’یاس‘‘ آج صبح اڈیشہ کے بالاسور میں ساحل سے ٹکرایا ۔ جس کے ساتھ ریاست کے کئی ساحلی اضلاع میں قہر برپا ہوا ۔ تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس کے نتیجہ میں کافی نقصان ہوا ہے ۔ تاہم اڈیشہ میں طوفان کے سبب کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ سمندری طوفان نے اوڈیشہ کے بالاسور میں تباہی مچانے کے بعد مغربی بنگال کے کئی ساحلی اضلاع میں بھی قہر برپا کیا ہے اور تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ تیز بارش سے یہاں کافی نقصان ہوا ہے ۔ طوفان سے متاثرہ زیادہ تر علاقوں میں اگرچہ مواصلاتی سہولت کا مسئلہ برقرار ہے لیکن چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے ریاستی سکریٹریٹ سے منگل سے ہی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے ۔ممتابنرجی نے کہاکہ کئی پشتوں کو پہلے ہی نقصان پہنچنے سے کئی ضلعوں میں سیلاب آیا ہوا ہے۔ ہم اب تک تقریباً 15لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرپائے ہیں ۔چیف منسٹر ممتابنرجی نے بعد میں بتایا کہ ریاست میں ایک کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں اور 3 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مشرقی مدنا پور، شمال اور جنوبی 24 پرگنہ، مدنا پور، پرولیا، جھارگرام، بانکورا، مغربی بردھوان، ہوڑہ، کولکاتا اور آس پاس کے ضلعوں ہگلی اور ندیا میں تیزہوائیں چلیں۔ بہت سارے علاقے زیرآب ہورہے ہیں ۔ کم سے کم 30ہزار مکانات تباہ ہوچکے ہیں ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ مشرقی مدنا پور میں 51 ڈیموں کو نقصان پہنچا ہے ۔ مشرقی مدنا پور سے اب تک 3.6لاکھ افراد کو نکالا جا چکا ہے ۔ ضرورت پڑنے پر فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے ۔ حالات پر میری پوری نگاہ ہے ۔ممتا بنرجی کی رپورٹ کے مطابق ساحلی علاقے میں 60 کلومیٹر تک پشتے تباہ ہوگئے ہیں۔ بہت سے ڈیم ٹوٹ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نندی گرام بھی سیلاب کی زد میں آگیا ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی حکومت اور سرکاری عملہ شہریوں کی خدمات کیلئے مستعد ہیں ۔وہ خود ہی مشرقی مدنا پور ضلع حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ تباہی 6سے 7گھنٹے تک جاری رہے گی ۔دریں اثناء طوفان کا زور ٹوٹنے لگا ہے ۔ صبح 9: 15 بجے سے طوفان یاس نے بالاسور میں دھامرا بندرگاہ کے قریب ژالہ باری شروع کردی۔ سمندر میں طغیانی کی وجہ سے دیگھا اور مندار منی جہاں بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیںوہاں حالات سنگین ہوگئے ہیں ۔دیگھا ۔مندارمنی کے درمیان سڑک پر پانی بھر گیا ہے ۔کئی عمارتوں میں پانی داخل ہوگیا ہے ۔ سندربن اور متعدد دیگر ساحلی علاقوں میں طغیانی کی وجہ سے ڈیم کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ چہارشنبہ کی صبح کو سمندر میں طغیانی کی وجہ سے دیگھا شہر میں پانی بھر گیا ہے اورگھرو ں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔