نیویارک : ریاست اوریگان میں ایک چھوٹے طیارہ کے حادثہ میں جو تین لوگ ہلاک ہوئے وہ افغان ائیر فورس کے سابق پائلٹس تھے جنہوں نے افغانستان میں امریکی فوج کا لڑائی میں ساتھ دیا تھا اور 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد پناہ لینے امریکہ آگئے تھے۔ یہ معلومات ان گروپس نے فراہم کیں جنہوں نے امریکہ میں ان کی از سر نو آباد کاری میں مدد کی تھی۔ وہ تینوں ہفتہ کے روز سیلم سے بارہ میل جنوب مغرب میں ایک چھوٹے سے شہر، انڈی پینڈینس کے قریب اس وقت جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب ان کا طیارہ بجلی کے تاروں سے ٹکرا گیا۔ ولیس نے بتایا ہے کہ وہ شدید دھند میں اوریگان سے ائیر پورٹ جا رہے تھے۔ حادثہ کے وقت طیارہ کو موسوی اڑا رہے تھے جب کہ صفدری اور فردوسی ہی ان کے مسافر تھے۔ حکام نے بتایا ہے کہ ابتدائی چھان بین سے معلوم ہوا ہے کہ بجلی کی تاروں سے طیارہ کی ٹکر کے نتیجے میں آگ لگ گئی اور کمیونٹی میں بجلی بھی منقطع ہو گئی۔ ہوابازی کا وفاقی ادرہ اور اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ، پولیس کی مدد سے حادثے کی چھان بین کر رہے ہیں۔ حادثے کی ممکنہ وجہ فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔ پناہ گزینوں کے امور سے متعلق ایک ادارے ،سیلم فار ریفیوجیز نے بتایا کہ اس نے 35 سالہ محمد حسین موسوی ، 35 سالہ محمد بشیر سفدری اور 29 سالہ علی جان فردوسی کو گزشتہ موسم بہار میں از سر نوآبادہونے میں مدد کی تھی۔ یہ غیر منافع بخش ادارہ امریکہ آنے والے نئے پناہ گزینوں کو دوسری سہولیات کے ساتھ ساتھ مالی امداد فراہم کرتا ہے اور انہیں رہائش اور ملازمت تلاش کرنے میں مدد کرتا ہے۔