جامع مسجد دارالشفاء میں قنوت نازلہ، سینکڑوں مصلیوں کی گریہ و زاری
حیدرآباد۔15ڈسمبر(سیاست نیوز) جامع مسجد دارالشفاء میں بعد نماز فجر قنوت نازلہ اور دعائیہ اجتماع میں سینکروں افراد نے شرکت کی اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعاء کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے ملک کے حالات کو اپنے حق میں اور ظالموں کی سازشوں کی ناکامی کیلئے دعائیں کی۔ بعد نماز فجر صلواۃ التوبہ اور قنوت نازلہ کے اہتمام کے ذریعہ مسلمانوں نے امت کے حالات پر رحم کے لئے دعاء کرتے ہوئے اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اللہ ربالعزت کو راضی کروانے کی کوشش کی ۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے ملک میں مخالف مسلم قوانین کی منظوری اور ان قوانین کے ذریعہ امت کو ہراساں کرنے کی سرکاری کوششوں کے خلاف اس کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا تھا اور امارت ملت اسلامیہ کی اس دعوت پر سینکڑوں مسلمانوں نے لبیک کہتے ہوئے اس خصوصی دعائیہ اجتماع میں شرکت کی۔ مولانا عبدالباری امام جامع مسجد دارالشفاء کی امامت میں نماز کی ادائیگی کے بعد مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے رقت انگیز دعاء کی ۔ دعائیہ اجتماع کے دوران شرکاء پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور اللہ رب العزت کی مدد کے لئے گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم گناہگار رحمت کے حقدار نہیں ہیں لیکن اے اللہ تو غفور ہے تو رحیم ہے تو اپنے حبیب پاک احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺ کے صدقہ میں ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور اپنی رحمت کے نزول کے ذریعہ امت پر پڑی اس افتاد کو دور فرما۔مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو مظالم ڈھانے کی تیاری کی جا رہی ہے اور اقدامات کئے جا رہے ہیں اس معاملہ کو امت نے اللہ کے حوالہ کیا ہوا ہے اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہوئے ہم اللہ کی مدد کی توقع کر رہے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت کی جانب سے شہریوں کو ہراساں کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے مسلمان خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ وہ ان حالات کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں اور ان حالات کا مقابلہ اللہ کی مدد کے ساتھ کرتے ہوئے ہندستانی مسلمان فتح و نصرت حاصل کریں گے ۔ دعائیہ اجتماع میں شریک افراد نے حکومت کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی کو ملک کے دستور کی روح کے مغائر قرار دیتے ہو ئے کہا کہ مسلمان ان حالات سے گھبرانے کے بجائے ہر شئے پر قادر ذات کے حوالہ اپنے معاملات کررہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اللہ جل شانہ اپنی قدرت سے ان کے حق میں فیصلہ صادر فرمائیں گے۔