عالمی اداروں سے ویکسین کے حصول میں تلنگانہ کو مایوسی

   

کمپنیاں ریاستوں سے معاملت کیلئے تیار نہیں، آندھرا پردیش اور دیگر 8 ریاستوں کی مساعی ناکام

حیدرآباد۔ عالمی اداروں سے ویکسین حاصل کرنے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی کوششوں کو اس وقت دھکہ لگا جب بین الاقوامی کمپنیوں نے واضح کردیا کہ وہ ویکسین کی سربراہی کے سلسلہ میں ریاستوں سے کوئی معاملت نہیں کریں گے۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے علاوہ دہلی اور پنجاب کی حکومتوں نے ویکسین کی قلت سے نمٹنے کیلئے گلوبل ٹنڈرس طلب کئے تھے تاکہ عالمی اداروں سے راست طور پر ویکسین حاصل کی جاسکے۔ مرکزی حکومت نے ریاستوں کو ویکسین کے حصول کی اجازت دے دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عالمی ویکسین سربراہ کرنے والی کمپنیوں نے دہلی اور پنجاب حکومتوں کو اطلاع دی ہے کہ وہ ویکسین کی سربراہی کیلئے ریاستوں سے نہیں بلکہ مرکز سے معاملت کریں گے۔ دونوں ریاستوں نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے کافی پہلے ہی گلوبل ٹنڈرس طلب کئے تھے۔ ملک میں یہ پہلا موقع ہے جب ویکسین کے حصول کیلئے گلوبل ٹنڈرس طلب کئے گئے۔ تلنگانہ حکومت نے 19 مئی کو گلوبل ٹنڈرس کے ذریعہ ایک کروڑ ویکسین حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 9 ریاستوں نے بین الاقوامی اداروں سے ویکسین کے حصول کی کوشش کی لیکن کسی کو بھی مینوفیکچررس کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے ٹنڈرس کے ادخال کی آخری تاریخ 4 جون مقرر کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک کسی بھی ادارہ نے ٹنڈر داخل نہیں کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت ویکسین کے حصول کے سلسلہ میں عالمی اداروں سے تعاون کے بارے میں پُرامید ہے تاہم دہلی اور پنجاب کو دو دن قبل مینوفیکچررس کے جواب سے مایوسی ہوئی ہے۔ ٹنڈر کی شرائط کے مطابق کمپنیوں کو 26 مئی کو آن لائن میٹنگ میں شرکت کرتے ہوئے اپنے آفر کی تفصیلات پیش کرنی ہے۔ ماہانہ کم از کم 15 لاکھ ویکسین کی خوراک سربراہ کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے معاہدہ کے اندرون 6 ماہ ایک کروڑ ویکسین کی خوراک سربراہ کرنے کی خواہش کی ہے۔ اسی دوران دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال نے کہا کہ فائزر اور ماڈرینا ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں نے واضح کردیا ہے کہ وہ ریاستوں کو ویکسین فروخت نہیں کریں گی۔ وہ اس معاملہ میں مرکز سے معاملت کرسکتی ہیں۔ پنجاب کی حکومت نے بھی اعلان کردیا کہ ماڈرینا کمپنی نے حکومت کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ تلنگانہ میں ویکسین کے حصول کیلئے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کی قیادت میں ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔