عالمی یوم خواتین کے موقع پر شاہین باغ میں مظاہرے

,

   

دہلی فساد متاثرین کیلئے امداد اکٹھا ، 3 ماہ سے مسلسل احتجاج کا ریکارڈ، خواتین کے حوصلوں کو سلام

نئی دہلی ۔ /8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کے شاہین باغ میں جو نئے شہریت قانون کیخلاف احتجاج کا اہم مرکز ہے آج عالمی یوم خواتین کے موقع پر زبردست جوش و خروش دیکھا گیا ۔ ملک بھر سے کئی خواتین دہلی کی احتجاجی خواتین میں شامل ہوکر شہریت قانون کے خلاف نعرے لگائے ۔ لکھنؤ سے خواتین کا ایک گروپ شاہین باغ پہونچا ۔ لکھنؤ میں بھی گزشتہ 50 دن سے شاہین باغ طرز کا احتجاج ہورہا ہے ۔ دہلی میں فساد زدہ علاقہ ظفرآباد اور دہلی کے قریب غازی آباد سے بھی کئی خواتین نے شاہین باغ پہونچ کر احتجاج کیا ۔ پرگتی شیل مہیلا سنگھٹن کے بیانر تلے کئی خواتین نے شاہین باغ میں احتجاج کررہی دادیوں سے ملاقات کی ۔ یہاں گزشتہ 3 ماہ سے سی اے اے کیخلاف احتجاج جاری ہے ۔ ان خواتین نے کہا کہ ہم یہاں پر پورے عزم کے ساتھ احتجاج کرنے والی خواتین کا حوصلہ بڑھانے کیلئے آئے ہیں اور یہ احتجاج شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹرار آف سٹیزن کے آئیڈیے کو واپس لینے تک جاری رہے گا ۔ شاہین باغ میں انقلاب زندہ باد اور ہندوستان زندہ باد کے نعرے بلند ہوئے ۔ شاہین باغ کی خواتین نے دہلی فساد سے متاثرہ افراد کیلئے رقومات اکٹھا کرکے جوش و خروش سے عالمی یوم خواتین منایا ۔ مودی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے ۔ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ اس کی زد میں سب سے زیادہ خواتین ہی آئیں گی ۔ یوم عالمی خواتین کے موقع پر شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے مختلف اسٹال بھی لگائے جس میں کھانے کی چیزوں کے علاوہ ، دوپٹے ، اسکاف اور دیگر کپڑے بھی تھے ۔ رومال پر ’’میں شاہین باغ ہوں‘‘ لکھا ہوا تھا ۔ مرد والینٹرس نے کہا کہ شاہین باغ کا احتجاج پرامن طریقہ سے جاری ہے ۔ دہلی میں حالیہ تشدد کے باوجود یہ علاقہ پرامن رہا ۔ ہم یہاں گزشتہ 85 دن سے احتجاج کررہے ہیں ۔ دہلی کے بھگت سنگھ آرکائیوز سورس سنٹر کے اعزازی مشیر پروفیسر چمن لال نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر ’’شاہین باغ کی بہادر خواتین‘‘ کو سلیوٹ کیا اور کہا کہ ان خواتین کا احتجاج ساری دنیا کیلئے قابل تقلید ہے ۔ لکھنؤ سے آنے والی شلپا چودھری نے کہا کہ لکھنؤ میں بھی اسی طرح کا احتجاج کیا جارہا ہے ۔ خواتین ، بچے ، بڑے ، بزرگ سب احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں ۔