عام آدمی پارٹی کو دھکا ۔ دہلی کے سینئر وزیر کیلاش گہلوٹ مستعفی

   

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کو آئندہ دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل ایک بڑا دھکا لگا ہے اور اس کے سینئر وزیر و دیرینہ لیڈر کیلاش گہلوٹ نے پارٹی سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسٹر گہلوٹ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ کیلاش گہلوٹ دہلی حکومت میں داخلہ ‘ ٹرانسپوٹر ‘ آئی ٹی اور خواتین و بہبودی اطفال کے وزیر تھے ۔ دہلی کی چیف منسٹر آتشی نے مسٹر گہلوٹ کا استعفی قبول کرلیا ہے ۔ پارٹی کنوینر مسٹر اروند کجریوال کے نام مکتوب استعفی میں کیلاش گہلوٹ نے واضح کیا کہ پارٹی کو خود اندر سے کئی سنگین چیلنجس کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عزائم عوام کے تئیں جذبہ پر غلبہ پا چکے ہیں اور کئی ایسے وعدے ہیں جنہیں پورا نہیں کیا جاسکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دریائے جمنا کی صفائی کا وعہد کیا گیا تھا اور پانی صاف کرنے کا عہد کیا گیا تھا لیکن یہ کام نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ شائد اب دریائے جمنا پہلے سے زیادہ گندی ہوگئی ہے ۔ کجریوال پر طنز کرتے ہوئے مسٹر گہلوٹ نے کہا کہ پارٹی میں کئی خفت والے لمحے بھی آئے ہیں اور ایسے تنازعات پیدا ہوئے ہیں جن سے شرمندگی ہوتی ہے ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے شیش محل کا حوالہ دیا ۔ شیش محل در اصل بی جے پی کی اصطلاع ہے جو کجریوال کے چیف منسٹر رہتے ہوئے ان کی قیامگاہ کی تزئین و مرمت کے تعلق سے استعمال کی جاتی ہے ۔ مسٹر گہلوٹ نے کہا کہ اس طرح کے تنازعات سے اب ہر کوئی یہ شبہ میں پڑ رہا ہے کہ آیا واقعی ہم اب بھی عام آدمی کے تعلق سے سوچتے ہیں ؟ ۔ مسٹر گہلوٹ کی جانب سے شیش محل تنازعہ کا حوالہ دیا جانا اہمیت کا حامل ہے ۔ چیف منسٹر د ہلی کی قیامگاہ کی تزئین و آرائش پر جملہ 45 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے تھے ۔ ان کا اس تنازعہ کا حوالہ دینا یہ اشارہ کرتا ہے کہ وہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔