ماہرین کی تحقیق،کھانسی اور بخار کے علاوہ نئی علامتوں کے انکشاف سے تشویش
حیدرآباد۔ کورونا کی پہلی لہر کے دوران کھانسی اور بخار کو ابتدائی علامات کے طور پر دیکھا جارہا تھا لیکن دوسری لہر کے آغاز پر ماہرین نے سردی اور زکام کو کورونا کی علامت کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ حکومت نے کورونا کیسس سے نمٹنے کیلئے ریاست میں ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔ روزانہ 50 تا 60 ہزار ٹسٹ کئے جارہے ہیں جبکہ پہلی لہر کے موقع پر 40 تا 50 ہزار ٹسٹ کئے جارہے تھے۔ ماہرین نے کورونا کی علامات کے سلسلہ میں نئی تحقیق کے مطابق بخار کے علاوہ عام زکام اور سردی کو بھی خطرہ سے خالی قرار نہیں دیا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ ناک کا بہنا اور سرد مزاج کورونا کی اہم علامات ہوسکتی ہیں اور ایسی علامات کے حامل افراد کو فوری اپنے ٹسٹ کروانا چاہیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں میں جن لوگوں میں کورونا کی علامات پائی گئیں ان میں سردی اور زکام پایا گیا۔ سوکھی کھانسی اور ہلکا بخار شامل ہوجائے تو یہ کورونا کا صد فیصد کیس تصور کیا جاسکتا ہے۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت ڈاکٹر جی سرینواس راؤ نے کہا کہ موسمی تبدیلی کے نتیجہ میں عوام کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ کورونا پہلے سے زیادہ طاقتور ہے۔ حال ہی میں کورونا سے متعلق کئے گئے تجربات میں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ غیر علامتی مریضوں میں سردی اور زکام کے ذریعہ کورونا کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کیا گیا جو پازیٹیو نکلا۔ ڈاکٹرس نے کہا کہ بعض مریضوں میں بخار اور سردی کے علاوہ پیٹ درد اور دست کی شکایات پائی گئیں۔ علامتیں بھلے ہی مختلف طئے کی جائیں لیکن تازہ تحقیق کے مطابق عام سردی اور زکام کو نظرانداز کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے علاوہ حکومت نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف ضروری کام کی صورت میں گھر سے باہر نکلیں۔