تہران : ایران کی ایک عدالت نے تاجکستان سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کو سزائے موت سنا دی۔ اسے 13 اگست کو ایک شیعہ مزار پر مسلح حملہ کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس حملے میں دو افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے تھے۔ملک کے جنوب میں صوبہ فارس کے صدر مقام شیراز شہر میں احمد بن موسیٰ الکاظم کے مزار پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس مزار کو “شاہ جراغ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی جگہ کو نشانہ بنانے والے حملے کے ایک سال سے بھی کم وقت کے بعد اس پر یہ دوسرا حملہ کیا گیا تھا۔ پرانے حملے کی ذمہ داری بعد میں داعش نے قبول کی تھی۔ حملے کے بعد 9 مشتبہ غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔عدلیہ کی آن لائن ویب سائٹ ’’میزان ‘‘کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے مرکزی ملزم رحمت اللہ نوروزیو کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔ اسے مسلح جنگ اور ملک کی سلامتی کے خلاف اکسانے کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔