عبادت گاہوں کا انہدام مذہبی جذبات مجروح کرنے کی کوشش

   

مساجد کے تحفظ کا وعدہ فراموش، محمد علی شبیر کا احتجاج
حیدرآباد: سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے سکریٹریٹ کامپلکس میں عبادت گاہوں کے انہدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دو مساجد اور ایک مندر کو منہدم کر کے مسلمانوں اور ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ ایم سی حکام نے دیگر عمارتوں کے ساتھ ساتھ قدیم سکریٹریٹ کے احاطہ میں موجود تین عبادت گاہوں کو منہدم کردیا ۔ حکومت کا یہ اقدام اعتماد شکنی اور ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے عوام کو دھوکہ ہے ۔ اس سلسلہ میں جب سابق میں نمائندگی کی گئی تو بعض وزراء نے تیقن دیا تھا کہ دونوں مساجد اور مندر کو برقرار رکھا جائے گا ۔ عمارتوں کے انہدام کے باوجود عبادت گاہوں کو جوں کا توں حالت میں رکھنے کا تیقن دیا گیا تھا لیکن چیف منسٹر نے بتایا جاتا ہے کہ دو مساجد اور ایک مندر کے بشمول دیگر تمام عمارتوں کو منہدم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ محمد علی شبیر نے 27 جون 2019 ء کو چیف منسٹر کے نام مکتوب روانہ کرتے ہوئے عبادت گاہوں کے تحفظ کی درخواست کی تھی۔ چیف منسٹر سے ہم نے بارہا وضاحت کی کہ ہم عصری سکریٹریٹ کے خلاف نہیں ہے۔ تاہم ان حالات میں یہ کام شروع کیا گیا ،اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم نے حکومت سے دونوں مساجد اور مندر کو بہر صورت بچانے کی درخواست کی تھی لیکن چیف منسٹر نے ہماری اپیل کو نظرانداز کرتے ہوئے عبادت گاہوں کو منہدم کردیا۔ محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس کے بعض قائدین کے دعوؤں کو مسترد کردیا کہ مساجد منہدم نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے دعوے کی تائید میں ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے چیف منسٹر پر تمام طبقات کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حکومت نے مذہبی مقامات کے تحفظ سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کی ہے ۔ چیف منسٹر کے پاس قانون اور دستور کا کوئی احترام نہیں ہے ۔