عبادت گاہوں کی کشادگی کے موقع پر سماجی فاصلہ و دیگر احتیاطی تدابیر کی تجویز

   

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے رہنمایانہ خطوط، مساجد میں جائے نماز ساتھ لیجانے کا مشورہ
حیدرآباد۔ 4 جون (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے 8 جون سے ملک بھر میں عبادت گاہوں کو کھولنے کی اجازت سے متعلق فیصلے کے پس منظر میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کورونا وائرس سے بچائو کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں۔ عالمی صحت تنظیم نے مساجد، منادر، چرچس اور دیگر عبادتگاہوں کو جانے والے افراد کیلئے ماسک کے استعمال و سماجی فاصلے کی برقراری کو لازمی قرار دیا ہے۔ ادارے نے کورونا وائرس کے مذہبی مقامات سے پھیلائو کو روکنے احتیاطی تدابیر تجویز کئے ہیں۔ ادارے نے عبادت گاہوں کو آنے والے افراد کا شخصی ریکارڈ رکھنے کی تجویز پیش کی تاکہ عبادتگاہ میں کورونا کی علامات کی صورت میں ایسے افراد کی نشاندہی کی جاسکے۔ گائیڈ لائینس میں عبادتگاہوں کی باقاعدہ سانیٹائزیشن اور سماجی فاصلے کی برقراری کی تجویز پیش کی گئی۔ عبادت گاہوں میں داخلے کے وقت ہاتھوں کی صفائی کیلئے صابن یا پھر سانیٹائزر کی سہولت رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔ عبادتگاہوں میں ڈسپوزیبل ٹیشو اور کچرے دان رکھا جانا چاہئے۔ عبادت گاہوں میں ہر شخص اپنی جائے نماز یا میاٹ ساتھ لانا چاہئے تاکہ کارپٹ پر وائرس کی صورت میں بچائو ہوسکے۔ عبادت گاہوں کے دروازوں کے ہینڈل، برقی کے سوچس اور ریلنگ کی وقفہ وقفہ سے صفائی کی جانی چاہئے۔ کئی مسلم اسکالرس نے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مساجد کو آتے وقت اپنی جائے نماز ساتھ لائیں اور مسجد میں موجود قرآن مجید کا استعمال نہ کریں۔ مندروں میں بھی درشن کو آنے والے یاتریوں کے درمیان سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ پرساد کی تقسیم اور مقدس اشنان کی فی الوقت اجازت نہیں رہے گی۔

چکور بالاجی مندر 8 جون سے یاتریوں کیلئے کھولی نہیں جائیگی۔ مندر کے صدر پجاری رنگاراجن نے کہا کہ کورونا کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور یہ وقت عبادتگاہوں کو کھولنے موزوں نہیں ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بیمار افراد اور خاص طور پر قلب، گردہ اور پھیپڑوں کے امراض میں ملوث افراد کو عبادتگاہوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایسے افراد جن میں کورونا کی معمولی علامات بھی پائی جائیں انہیں عبادتگاہ آنے سے گریز کرنا چاہئے۔ 60 سال سے زائد اور 10 سال سے کم عمر کے افراد عبادت گاہوں سے دور رہیں تاکہ ہجوم سے بچا جاسکے۔ مسلم اسکالرس نے مساجد کی انتظامی کمیٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پنج وقتہ نمازوں کے موقع پر صرف محدود مدت کے لیے مساجد کو کھلا رکھیں۔ مساجد میں خدمات کو کم سے کم کیا جائے جیسے وضو اور طہارت گھر سے ہی کرلیں۔