صحت کو خطرہ لاحق ہونے کے امکان کے ساتھ عوام تشویش میں مبتلا
حیدرآباد :۔ 1300 بستر والے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی جانب سے ہاسپٹل کی ناکارہ اشیاء ، کچہرے کو انتہائی آلودہ موسیٰ ندی میں چھوڑنے کے لیے ایک پائپ لائن کھدائی پراجکٹ کا آغاز کیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ عوام تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ اس سے ان کی صحت کو خطرہ لاحق ہوگا ۔ اس دواخانہ میں 21 میڈیکل اسپیشالٹیز اور 11 آپریشن تھیٹرس ہیں ۔ اس دواخانہ میں کم از کم 100 سرجریز انجام دی جاتی ہیں ۔ تاہم اس میں ابھی تک ایک سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگایا گیا ہے ۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی جانب سے اس کے کچہرے وغیرہ کو ڈرینج پائپ لائن میں چھوڑا جارہا ہے لیکن اب اس دواخانہ کی جانب سے اس کی بیکار چیزوں اور کچہرے کو راست طور پر موسیٰ ندی میں چھوڑنے کے لیے ایک پائپ لائن پراجکٹ انجام دیا جارہا ہے ۔ دراصل ، اس ہاسپٹل کو اس کے کچہرے وغیرہ کو ڈرینج پائپ لائن میں جانے دینے سے پہلے ایس ٹی پی میں ٹریٹ کرنا چاہیے تھا ۔ گذشتہ موسم بارش کے دوران ہاسپٹل کی چھت میں پجر ہوگیا تھا اور بارش کا پانی ہاسپٹل کے وارڈس میں آگیا تھا ۔ اس لیے واٹر ورکس ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے ایک ڈرینج پائپ لائن نصب کرنے کے لیے 13 لاکھ روپئے منظور کئے جو سیوریج پائپ لائن سے مربوط ہوگا اور ندی میں خالی ہوگا ۔ ماہرین ماحولیات نے ہاسپٹل اور حکومت کے عہدیداروں کو انتباہ دیا کہ اس اقدام سے نئے امراض کا امکان ہے ۔ اگر یہ ندی لبریز ہو کر اس کا پانی باہر بہنا شروع ہوا تو ندی کا پانی شہر میں مختلف مقامات پر پھیل جائے گا اور اس طرح امراض پھیلائے گا ۔ عہدیداروں نے اس پائپ لائن کے کاموں کا سنگ بنیاد مقامی رکن اسمبلی سے رکوایا ۔ اس کے کاموں میں چہارشنبہ کی شب سے تیزی پیدا ہوگئی ہے ۔ TSMSIDC کے عہدیداروں کو انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں سے اس سلسلہ میں صلاح و مشورہ نہ کرنے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے ۔ انجینئرنگ سیکشن کے عہدیداروں نے ہاسپٹل گورننگ باڈی کو اس اقدام کے امکانی مضر اثرات سے پہلے ہی چوکنا کیا ہے ۔ ایسے میں پولیوشن کنٹرول بورڈ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی جانب سے اس طرح کے ایک قابل اعتراض پراجکٹ کو شروع کرنے پر بھی وہ کیا کررہا ہے ۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹی ایس ایم ایس آئی ڈی سی کے اسسٹنٹ انجینئر جگدیش نے کہا کہ عثمانیہ ہاسپٹل اتھارٹیز کو ہاسپٹل پائپ لائن کو اس پائپ لائن سے مربوط کرنے کے خلاف انتباہ دیا گیا ہے جو راست طور پر موسیٰ ندی میں خالی ہوتی ہے ۔ ہاسپٹل نے اس وارننگ کو یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیا کہ گورنمنٹ ہاسپٹل کے لیے ایک اسپیشل انجینئرنگ سیکشن ہے ۔ انہوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات کہی اور کہا کہ واٹر ورکس ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے ٹی ایس ایم ایس آئی ڈی سی سے صلاح و مشورہ کے بغیر ہی پائپ لائن کے کام شروع کردئیے ۔۔